اردو

urdu

ETV Bharat / state

Rs. 400 Cr Vegetable Project in JK سبزیوں کی درآمدات کو کم کرنے کے لئے انتظامیہ کی پہل - کشمیر 400 کروڑ روپے پروجیکٹ

سبزیوں کی درآمدات کو کم کرنے اور کسانوں کی آمدن میں اضافہ کی غرض سے جموں و کشمیر انتظامیہ روایتی سبزیوں سمیت غیر مقامی سبزیوں بشمول بروکولی وغیرہ کی کاشت کے لیے ایک پروجیکٹ متعارف کر رہی ہے۔Kashmir Vegetable Imports

ا
ا

By

Published : Dec 30, 2022, 7:56 PM IST

سرینگر (جموں و کشمیر): جموں و کشمیر انتظامیہ نے فصلوں کی پیداوار میں اضافہ اور در آمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے 400 کروڑ روپے کا ’سبزیوں کے فروغ‘ پروجیکٹ کا آغاز کیا ہے۔ انتظامیہ نے آئند پانچ برسوں میں 596000 میٹرک ٹن پیداوار کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ’سبزیوں کا فروغ‘ منصوبہ غیر ملکی سبزیوں کی اقسام کی کاشت پر توجہ مرکوز کرے گا۔JK launches Rs 400 Cr vegetable project to increase production

فی الوقت، جموں و کشمیر میں سبزیوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے در آمدات پر زیادہ انحصار ہے۔ جموں و کشمیر636.52 کروڑ روپے مالیت کی 318.26 ہزار میٹرک ٹن سے زیادہ سبزیاں پنجاب، ہریانہ، اور اتر پردیش سمیت دیگر ریاستوں سے سالانہ درآمد کرتا ہے۔ بڑے پیمانے پر سبزیوں کی نرسریوں کے قیام سے لے کر ہائی ٹیک پلے ہاؤس تک، جموں و کشمیر انتظامیہ نے اس پروجیکٹ کے لیے 400 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ ای ٹی وی بھارت کو حاصل ہوئے ایک پروجیکٹ دستاویز سے معلوم ہوتا ہے کہ انتظامیہ نے سبزیوں کی پیداوار کو 1991 سے 2587 ہزار میٹرک ٹن تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

دستاویز کے مطابق کہ ’’اس کا مقصد سبزیوں کی کاشت کو 165 سے 250 فیصد تک بڑھانا ہے۔ اس منصوبے پر عمل درآمد کے بعد پانچویں سال سے سالانہ 68000 میٹرک ٹن کا سرپلس پیدا کیا جائے گا۔‘‘ اس پروجیکٹ کے تحت جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع میں اعلیٰ قیمت والی سبزیوں کے لیے 1100 نئے ہائی ٹیک گرین ہاؤسز اور 3548 نئی پولی ہاؤس پر مبنی سبزیوں کی نرسریاں قائم کی جائیں گی۔JK Admin on Vegetable Imports

دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’یہ نئے پلے ہاؤس (سبزیوں کی نرسری) کو پودے لگانے کے معیاری مواد کی فراہمی کے لیے قائم کیا جائے گا۔ اس پروجیکٹ کے تحت نئی مداخلتیں، جن میں فصل کی شدت کو بڑھانے کے لیے درست کاشتکاری کی تکنیکوں کو مقبول بنانا اور سبزیوں کی کاشت کے نئے خطے کے مخصوص طریقوں کو ڈیزائن کرنے کے لیے تحقیق اور اس میں ترقی شامل ہے۔‘‘

سبزیوں کی کاشت سے منسلک کسانوں کے منافع میں اضافہ کرنے کے لیے، یہ پروجیکٹ غیر ملکی سبزیوں جیسے بروکولی، برسلز اسپراؤٹس، اسفراگس، لیٹش، سرخ گوبھی اور دیگر اقسام کی کاشت پر بھی توجہ مرکوز کرے گا۔ دستاویز کے مطابق، یہ غیر ملکی سبزیاں جموں و کشمیر کے سبزیوں کے کاشتکاروں کے لیے اعلیٰ درجے کی منڈیوں میں ان سبزیوں کی مانگ کو پورا کرنے کا ایک منفرد موقع فراہم کرتی ہیں۔ ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹ تک رسائی وہ اہم شعبے ہیں جن پر انتظامیہ اس پروجیکٹ کے ذریعے توجہ دے گی۔Vegetable Imports in Kashmir

اس منصوبے کے تحت انتظامیہ نے آئندہ پانچ برسوں میں 47,250 ملازمتیں اور 4648 کاروباری ادارے پیدا کرنے پر بھی توجہ مرکوز کی ہے۔ اس پروجیکٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر محکمہ زراعت (کشمیر) چوہدری محمد اقبال کا کہنا تھا کہ’’پروجیکٹ کے نفاذ سے سبزیوں کی طلب (Demand) کو کافی حد تک پورا کیا جائے گا۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’غذائیت اور تازگی کے لحاظ سے درآمد شدہ سبزیوں کا معیار تاہم طویل نقل و حمل اور پیداوار کی خراب ہونے کی وجہ سے متاثر ہوتا ہے جس کی وجہ سے سبزیوں کی تخمینہ ضرورت سے تقریباً دوگنی قیمت پر درآمد کی جاتی ہیں اور زیادہ قیمت پر فروخت کی جاتی ہیں۔‘‘

ABOUT THE AUTHOR

...view details