نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے جموں و کشمیر کے متعدد طلباء اس وقت مشکلات میں ہیں کیوں کہ یونیورسٹی نے مبینہ طور پر سرینگر کو انٹرنس اگزام سینٹر کے طور پر ہٹا دیا ہے۔ طلبا کا کہنا ہے کہ داخلہ امتحان کے لیے اب انہیں دہلی کے سفر اور رہائش پر ہزاروں روپے خرچ کرنے ہوں گے۔ کئی طلبا نے الزام لگایا ہے کہ زیادہ تر انڈرگریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ اور پی ایچ ڈی میں داخلہ کے لیے آن لائن فارم بھرتے وقت انہیں دہلی ہی واحد آپشن ملتا تھا۔ تاہم، جامعہ انتظامیہ نے کہا کہ سرینگر امتحان مراکز کو تمام کورسز کے لیے نہیں ہٹایا گیا ہے لیکن کچھ پروگراموں کے لیے اسے کینسل کرنا پڑا کیونکہ اس مخصوص کورس میں درخواست دہندگان کی تعداد 50 سے کم تھی۔
داخلہ پراسپیکٹس میں سات امتحانی مراکز ترواننت پورم، لکھنؤ، دہلی، پٹنہ، کولکاتا، سری نگر اور گوہاٹی شامل تھے۔ طلباء کو کسی بھی سینٹر کا انتخاب کرنے کی اجازت تھی۔ پراسپیکٹس میں کہا گیا تھا کہ اگر درخواست دہندگان کی تعداد 49 یا اس سے کم ہے تو اس کورس کے لیے اس کا ٹیسٹ دہلی میں لیا جائے گا۔ طلباء کا کہنا ہے کہ یہ غیر منصفانہ ہے اور فلائٹ، ہوٹلوں کی بکنگ کے لیے انہیں کافی روپے خرچ کرنا پڑے گا۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر نجمہ اختر سے اپیل کی کہ وہ انہیں سرینگر کے ایک سنٹر میں داخلہ امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دیں۔ ایک طالب علم نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ میں نے ایل ایل ایم پروگرام میں داخلے کے لیے فارم بھرا اور یو جی کورسز میں اپنی بہن کے لیے تین درخواستیں بھری ہیں لیکن اس میں سرینگر کا آپشن نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ میں صرف داخلہ امتحان کے لیے دہلی نہیں جاسکتا کیوں کہ مجھے سفر اور رہائش پر 25000 روپے سے زیادہ کا خرچ آئے گا۔