سرینگر:جموں کشمیر لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ آنے والے دنوں میں وادی کشمیر کی مقامی آبادی کو ’’یونیق آئڈینٹیفکیشن نمبر" (UID) فراہم کرنے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ ہر گھر اور اس میں رہنے والے افراد خانہ کو ’’سماجی بہبود و فلاحی ترقی اسکیموں‘‘ کا فائدہ بغیر کسی خلل کے دستیاب ہو سکے۔ تاہم جموں کشمیر کی اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نمبر سے لوگوں پر نگرانی بڑھانے کا مقصد ہے اور عوام کے ذاتی تفصیل کو عدم تحفظ کا خطرہ بھی لاحق ہے۔
کشمیر صوبے کے کمشنر، وجے کمار بدھوری، نے بتایا کہ انتظامیہ ہر گھر کو UID دینے کی تیاری کر رہی ہے جس سے ہر گھر اور اس کے افراد خانہ کے تفصیل انتظامیہ کو دستیاب رہے گی۔ وجے کمار بدھوری نے کہا کہ اس نمبر سے لوگوں کے گھروں کی پہچان کرنے میں آسانی ہوگی اور انتظامیہ کو بھی لوگوں کو منیج کرنے میں سہولت ہوگی کیونکہ اس نمبر میں لوگوں کی شناخت، گھر کا پتہ اور دیگر تفاصیل موجود ہوں گی۔
یاد رہے کہ جموں کشمیر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے 26 نومبر سنہ 2022 میں جموں صوبے کے کٹرہ قصبے میں ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کے ساتھ ’’ڈیجٹل جے اینڈ کے وژن ڈاکیومنٹ" Digital J&K Vision) Document) اجرا کیا تھا، جس میں انتظامیہ کی جانب سے جموں کشمیر کے باشندوں کے متعلق ڈیجیٹل ڈاٹا بیس قائم کرنے کا منصوبہ واضح کیا گیا تھا۔
منوج سنہا نے جموں شہر میں 11 دسمبر سنہ 2022 کو "فیملی آئی ڈی (UID) منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہر گھر کے لیے آٹھ نمبرات پر مبنی فیملی آئی ڈی (Family ID) ہوگا جس سے لوگوں کی سماجی و فلاحی بہبود اسکیموں کا فائدہ اٹھانے میں انکو آسانی ہوگی۔ منوج سنہا نے کہا تھا کہ اس فیملی آئی ڈی سے سوشل اور سیکورٹی اسکیموں کو شفافیت اور تیزی سے لاگو کرنے میں سہولت ہوگی۔