سرینگر: آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مرکز میں بی جے پی حکومت نے جموں اور کشمیر تنظیم نو ایکٹ، 2019 کے تحت حد بندی کمیشن قائم کیا تاکہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی حدود کو دوبارہ ترتیب دیا جاسکے۔Abrogation Of Article 370
کمیشن کی تشکیل۔۔
سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج رنجنا پرکاش دیسائی کی سربراہی میں یہ کمیشن مارچ 2020 میں قائم کیا گیا تھا اور اسے ایک سال کے اندر حد بندی کی مشق مکمل کرنے کا کام سونپا گیا تھا لیکن جب کمیشن اس مشق کو مقررہ مدت میں مکمل نہیں کر سکا تو اس کی مدت مارچ 2022 تک بڑھا دی گئی۔ The commission was Set up in March 2020
ابتدا میں حد بندی کمیشن آسام، منی پور، ناگالینڈ، اروناچل پردیش اور جموں و کشمیر کے حلقوں کو دوبارہ ترتیب دینے کے لیے قائم کیا گیا تھا، لیکن جب اس کی مدت میں ایک سال کی توسیع کی گئی تو شمال مشرقی ریاستوں کو اس کے مینڈیٹ سے باہر کر دیا گیا۔Formation of the Commission
سیاسی جماعتیں کمیشن کی مخالفت کر رہی ہیں۔۔
کمیشن کی تشکیل کے بعد سے جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے خاص طور پر نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے اس کی تنقید کی ہے۔ ان جماعتوں نے دلیل دی کہ کمیشن جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کے تحت تشکیل دیا گیا تھا، جسے ان جماعتوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ Political parties oppose the Commission
ان سیاسی جماعتوں نے یہ بھی دلیل دی کہ جموں و کشمیر میں حد بندی پر سپریم کورٹ نے 2026 تک روک لگا دی تھی اور نیشنل کانفرنس کی حکومت نے سنہ 2002 میں 2026 تک حد بندی کو منجمد کر دیا تھا۔
واضح رہے کہ آخری حد بندی جموں و کشمیر میں صدر راج کے دوران 1994-95 میں کی گئی تھی، جب سابقہ ریاستی اسمبلی کی نشستیں 76 سے بڑھا کر 87 کر دی گئی تھیں۔ جموں خطے کی نشستیں 32 سے بڑھا کر 37، کشمیر کی نشستیں 42 سے بڑھا کر 46 کر دی گئی تھیں اور لداخ کی نشستیں دو سے بڑھ کر چار ہوگئیں تھی۔Political parties oppose the Commission
بی جے پی کو چھوڑ کر جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں کی مخالفت کے باوجود کمیشن نے اپنی مشق جاری رکھی اور 2021 میں دو بار یونین ٹیریاٹی کا دورہ کیا اور کشمیر اور جموں خطوں میں سیاسی جماعتوں، سماجی کارکنوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کئی میٹنگیں کیں۔ پی ڈی پی نے کمیشن کا بائیکاٹ کیا کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ کمیشن جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ کے تحت تشکیل دیا گیا تھا جو کہ غیر آئینی ہے۔
سیاسی جماعتیں یہ بھی استدلال کرتی ہیں کہ حد بندی 2011 کی مردم شماری کے مطابق کی جانی چاہیے، تاہم کمیشن نے کہا ہے کہ جغرافیہ، آبادی، رسائی اور مواصلات وہ معیار ہیں جن کی بنیاد پر وہ حد بندی کرے گا۔
نشستوں کی دوبارہ ترتیب۔۔۔۔
سابقہ ریاست جموں و کشمیر کی 111 نشستیں تھیں جن میں 24 (پی او کے) پاکستان مقبوضہ کشمیر کے لیے مخصوص تھیں اور 87 اسمبلی نشستوں کے لیے انتخابات ہو رہے تھے، پچھلی اسمبلی میں کشمیر کی 46، جموں کی 37 اور لداخ کی چار نشستیں تھیں۔Redrawing of seats
سابقہ ریاست کو جموں و کشمیر اور لداخ کے دو یو ٹیز میں تقسیم کرنے کے بعد، اسمبلی کی نشستیں 83 نشستوں پر رہ گئیں کیونکہ لداخ کی چار نشستیں ختم ہوگئیں ۔
جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ کے تحت جموں و کشمیر میں اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 107 سے بڑھا کر 114 کر دی جائے گی جس میں 24 نشستیں بھی شامل ہیں جو پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) کے لیے مختص ہیں جب کہ انتخابات 90 نشستوں کے لیے ہوں گے۔
کمیشن کے اپنے اراکین کے علاوہ، جموں و کشمیر کے پانچ لوک سبھا ممبران، نیشنل کانفرنس کے تین اور بی جے پی کے دو اس کے ایسوسی ایٹ ممبر ہیں۔
گزشتہ سال 20 دسمبر کو کمیشن نے اپنا پہلا ڈرافٹ ایسوسی ایٹ ممبران کے ساتھ شیئر کیا ۔ جموں ڈویژن میں چھ اضافی اسمبلی حلقے اور کشمیر میں ایک کی تجویز پیش کی۔اس تجویز سے جموں میں نشستوں کی تعداد 37 سے بڑھ کر 43 اور کشمیر میں 46 سے بڑھ کر 47 ہو جائے گی۔ ان 90 نشستوں میں سے نو نشستیں ایس ٹیز اور سات نشستیں ایس سیز کے لیے مخصوص ہوں گی۔
چار فروری کو کمیشن نے اپنا دوسرا ڈرافٹ ایسوسی ایٹ ممبران کے ساتھ شیئر کیا جس میں اس بات کی تفصیل دی گئی کہ کس طرح پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کو دوبارہ تشکیل دیا گیا ہے۔
دوسرے ڈرافٹ میں تمام اسمبلی حلقوں اور پارلیمانی نشستوں کی ایک بڑی تبدیلی دکھائی گئی جس نے تمام سابق قانون سازوں کے سابقہ انتخابی ڈھانچے کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تمام حلقوں کو تبدیل شدہ حدود کے ساتھ دوبارہ تیار کیا گیا ہے۔ 28 حلقے نئے سرے سے بنائے گئے ہیں اور ان کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ 19 موجودہ حلقوں کو حذف کر دیا گیا ہے۔