اس سے پہلے آج وزیراعلی فدنویس نے کہا تھا کہ ڈھائی ڈھائی برس کے لئے وزیراعلی بنانے کا فیصلہ میرے سامنے نہیں ہوا تھا۔ اس بیان پر ٹھاکرے نے کہاکہ پہلی بار کسی نے ہمارے کنبہ پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا ہے جسے ہم قبول نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر فدنویس ہمارے اچھے دوست ہیں، اس لئے ہم نے انہیں وزیراعلی بنانے کے لئے اپنی حمایت دی تھی۔ اگر کوئی اور وزیراعلی اس وقت بنتا تو شاید ہم حمایت نہیں دیتے لیکن مسٹر فدنویس کا ہمیں جھوٹا ثابت کرنا ہمیں ٹھیک نہیں لگا۔
انہوں نے کہا کہ شاہ نے اقتدار میں پچاس پچاس کے فارمولہ کی بات کہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی کی طرف سے اس فارمولہ پر بات چیت کے لئے بلایا جاتا تو ہم ضرور بات کرتے اور کس کا وزیراعلی پہلے بنے گا اور کس کا بعد میں یا دیگر عہدوں پر بات چیت ہوتی لیکن ہماری مانگ پران لوگوں نے غور نہیں کیا۔ ہم وہی بات کررہے تھے جسے مسٹر شاہ نے مانا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بنانے کا دعوی کرو یا متبادل کھلا ہوا ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ رام مندر کا کریڈٹ مرکزی حکومت نہیں لے سکتی کیونکہ اس کا فیصلہ عدالت کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اتحاد قائم رکھنا یا نہ رکھنا بی جے پی کے ہاتھ میں ہے۔