ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع ساگر میں واقع ڈاکٹر ہری سنگھ گور سینٹرل یونیورسٹی میں ایک باحجاب طالبہ نے کلاس روم میں نماز اداکی۔ اس سے متعقل ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ہندو شدت پسند تنظیموں کے کارکنان نےمذکورہ یونیورسٹی کے چانسلر سے شکایت درج کرائی ہے۔ Protest Against Praying in the Classroom
Protest Against Praying in the Classroom: کلاس روم میں نماز ادا کرنے پر ہندو شدت پسند تنظیم کے کارکنان کا احتجاج - ہندو شدت پسند تنظیموں کے کارکنان کا احتجاج
کرناٹک کے بعد اب ملک کی متعدد ریاستوں کے تعلیمی اداروں میں مسلم طالبات کے باحجاب کلاس روم یا تعلیمی اداروں کے احاطہ میں داخلہ کی عدم اجازت کا معاملہ منظر عام پر آرہا ہے۔ اس معاملہ سے مختلف ایک معاملہ مدھیہ پردیش کے ضلع ساگر کا ہے۔ جہاں ڈاکٹر ہری سنگھ گور سینٹرل یونیورسٹی کی ایک طالبہ کی جانب سے کلاس روم میں نماز ادا کرنے کا ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد ہندو شدت پسند تنظیموں کی جانب سے یونیورسٹی کے چانسلر سے شکایت درج کی گئی ہے۔ Protest Against Praying in the Classroom
![Protest Against Praying in the Classroom: کلاس روم میں نماز ادا کرنے پر ہندو شدت پسند تنظیم کے کارکنان کا احتجاج احتجاج](https://etvbharatimages.akamaized.net/etvbharat/prod-images/768-512-14840752-92-14840752-1648276011119.jpg)
کرناٹک کے بعد اب ملک کے متعدد ریاستوں کے تعلیمی اداروں میں مسلم طالبہ باحجاب کلاس روم یا تعلیمی اداروں کے احاطہ میں داخلہ کی عدم اجازت کا معاملہ منظر عام پر آرہا ہے۔اس معاملہ سے مختلف ایک معاملہ مدھیہ پردیش کے ضلع ساگرکا ہے ۔جہاں ڈاکٹرہری سنگھ گور سینٹرل یونیورسٹی کی ایک گریجویشن فائنل ایئر کی طالبہ نے کلاس روم میں نمازاداکرنے کا ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد ہندوشدت پسند تنظیموں کی جانب سے یونیورسٹی کے چانسلر سے شکایت درج کی گئی ہے۔
طالبہ روزانہ حجاب زیب تن کرکے کالج آتی ہے،اس کا تعلق ریاست کے ضلع دموہ سے ہے،طالبہ کا نماز اداکرنے سے متعلق ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہندو شدت پسند تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں،انہوںنے یونیورسٹی انتظامیہ سے اس کی شکایت درج کرائی ہے،شکایت درج ہونے کے بعد انتظامیہ نے اس معاملہ کی جانچ شروع کردی ہے