بیس فروری 1917 میں پیدا ہوئے کیف بھوپالی نے کالج سے باضابطہ کوئی ڈگری تو نہیں لی تھی لیکن اپنی محنت اور کمال حاصل کیا جو بہت کم کے حصے میں آیا- قرآن کے کئی پاروں کا منظوم ترجمہ کرنے والے کیف بھوپالی مشاعرے کے مقبول ترین شاعروں میں تھے-
شاعر کیف بھولی کی یوم پیدائش پر خاص ان کا پہلا شعری مجموعہ شولے حرف 1957 میں شائع ہوا جس کی بڑی پذیرائی ہوئی- ان کی غزلوں کو کئی گلوکاروں نے اپنی آواز دی اور شہرت پائی اس کے علاوہ کوہ بتا کو بھی لوگوں نے بہت سراہا انہوں نے کئی فلموں کے لئے نغمے لکھے جو بہت مقبول ہوئے-
کیف بھوپالی کی پوری زندگی حادثوں سے عبارت رہی ہیں دنیا نے جو داغ دیے اور زمانے سے جو غم لے ان کی کوئی حد اور حساب انہی زخموں اور داغوں کو انہوں نے پوری صداقت کے ساتھ اپنی خصوصی شاعری کے رنگ میں رنگ دیا- شاعری میں خدائے سخن میر تقی میر کے مقلد ہونے کا دعوی کرنے والے کیف نے لہجے میں ضرور میر کے قریب آنے کی کوشش کی ہے لیکن مرزا رنگ و آہنگ شاعر رہے-
کیف بھوپالی کے شعری مجموعے شائع ہوکر منظر عام پر آ چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی کیف بھوپالی کی خدمات کے اعتراف میں ایک فنکار کو صوبائی اعزاز سے نوازتی ہے-