ریاست مدھیہ پردیش کے عابد حسین اپنے روزگار کے سلسلے میں لمبے وقت سے بھوپال میں مقیم ہیں۔ ان کا آبائی وطن رودر پور امبیڈکر نگر ہے۔ ان کا بچپن غریبی میں گزرا۔ والد کا انتقال بچپن میں ہی ہوگیا تھا۔
عابد حسین نے بڑے بھائی کے ساتھ رہتے ہوئے اپنی تعلیم پوری کی اور نوکری کی تلاش اور روزگار کے لیے اپنے بھائی کے ساتھ بھوپال آگئے۔ انہوں نے پہلے تو مزدوری کی اور بعد میں انٹیریر ڈیکوریٹر کا کام شروع کیا جو بخوبی چل رہا ہے۔
عابد حسین نے لوگوں کی وطن واپسی مہم کیسے شروع کی اس کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ انہیں سب سے پہلے ایک کیس بنگلہ دیش سے بھاگ کر آئے ایک چھوٹے سے بچے رمضان کا ملا جو کہ بنگلہ دیش سے بھوپال پہنچ گیا تھا۔ اس بچے کی مدد کے لیے انہوں نے رمضان نام سے ٹویٹر پر مہم چلائی، جس میں ان کو بڑی کامیابی ملی۔ اس وقت کی وزیر خارجہ آنجہانی ششما سوراج نے عابد حسین کی بہت مدد کی تھی اور رمضان کو بھوپال سے اس کی والدہ کے پاس حفاظت کے ساتھ بنگلہ دیش پہنچادیا گیا۔
اس معاملے کے بعد عابد حسین نے ارادہ کیا کہ وہ ایسے لوگوں کی مدد کریں گے جو بیرون ممالک میں کسی وجہ سے پھنس گئے ہیں اور اپنے وطن لوٹنا چاہتے ہیں۔
عابد حسین کو ان معاملات میں اتنا علم ہو گیا ہے کہ کب کہاں کس طرح سے بات کی جائے اور کن لوگوں سے مدد لی جائے تاکہ غیر ممالک میں پھنسے لوگوں کو آسانی کے ساتھ اپنے وطن واپس لایا جا سکے۔ اب عابد حسین آسانی کے ساتھ انڈین ایمبیسی میں غیر ممالک میں پھنسے لوگوں کے تعلق سے بات کرتے ہیں اور لوگوں کا وطن واپسی کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک عابد حسین نے 100 سے بھی زائد لوگوں کی وطن واپسی کروا چکے ہیں۔