کپواڑہ: شمالی کشمیر کے ہندواڑہ علاقے کے نوگام ماور Nowgam Mawer کے رہنے والے ایک چودہ سالہ طالب علم کی کہانی ان دنوں توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ یہ طالب علم لنگڑاتے ہوئے اسکول کی طرف جاتا ہوا نظر آرہا ہے۔ جی ہاں اس طالب علم کا نام پرویز احمد ہے جو نویں جماعت کا طالب علم ہے۔ کئی سال قبل ایک حادثے میں پرویز احمد کا پیر جھلس گیا۔ ان کے کئی آپریشن کیے گئے لیکن پیر تو ٹھیک نہیں ہوا، جان بچانے کیلئے ڈاکٹروں نے ٹانگ کا ایک حصہ ہی کاٹ دیا Handicapped Kashmiri youth Pervez Ahmed Forced go to school۔
یہ طالب علم اب ایک ہی ٹانگ پر چلتے ہوئے دو کیلومیٹر کا سفر روزانہ طے کر کے اسکول پہنچتا ہے۔ کہنے کو تو حکومت نے انہیں وہیل چیئر فراہم کی ہے لیکن گاؤں کی سڑک کی حالت ایسی ہے کہ ویل چیئر کے بجائے ایک تانگ پر چلنا ہی انہیں آسان لگتا ہے۔
طالب علم پرویز احمد نے بتایا کہ میرا پیر کئی سال قبل ایک حادثہ میں جلھس گیا تھا، جس کے بعد سے میں ایک ہی پیر پر چلتا ہوں اور اسکول آتا ہوں۔
اسکول میں پرویز پڑھائی کے ساتھ کرکٹ بھی کھیلتا ہے۔ طالب علم پرویز احمد کے والد غلام احمد نے بتایا کہ ان کے پاس اتنی استطاعت نہیں ہے کہ وہ اپنے بچے کے پیر کا علاج کرا سکیں، لیکن اس کا شوق پڑھنا اور کھیلنا ہے۔ وہ ہر روز ایک ہی پیر پر سخت پریشانیوں کا سامنا کر کے اسکول جاتا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ سے مدد کا مطالبہ کیا ہے۔
اسکول کے ہیڈ ماسٹر غلام حسین میر کے مطابق ایک پیر سے معذور پرویز احمد سکول کی کھیلوں کی سرگرمیوں میں باقاعدگی سے حصہ لیتا ہے اور والی بال، کرکٹ بھی کھیل رہا ہے۔ اسکول انتظامیہ کی طرف سے پیر لگانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن ناکام رہے۔ طالب علم پرویز احمد ایک ذہین طالب ہے۔
مزید پڑھیں:
اپنے ایک پیر سے خوابوں کو پورا کرنے کے جنون میں ہر روز اسکول پہنچنے والے طالب علم پرویز احمد نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس کی مدد کی جائے۔ دیکھنا ہے کہ انتظامیہ پرویز احمد کے خوابوں کو پورا کرنے کی سمت میں کوئی قدم اٹھاتی ہے یا انہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہے۔