کولگام (جموں و کشمیر):جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ قصبہ میں لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ نے شراب کا ٹھیکہ الاٹ کرنے کو منظوری دی ہے جس پر پیر کے روز قصبہ میں لوگوں نے احتجاجاً ہڑتال کی۔ قصبہ میں احتجاجاً دکانیں بند رہیں جب کہ ٹریفک کی نقل و حمل بھی کافی متاثر رہی۔ کسی بھی سیاسی، سماجی یا مذہبی تنظیم نے ہڑتال کی کال نہیں دی تھی، تاہم پیر کی صبح مقامی تاجرین نے از خود احتجاجاً دکانیں بند رکھ کر حکومت سے شراب کی دکان کو منظوری دیے جانے کے فیصلہ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کر رہے لوگوں، دکانداروں نے حکومت سے فوری طور شراب کی دکان کھولے جانے کے فیصلہ پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے عوام کے مذہبی جذبات کی قدر کرنے کی اپیل کی۔ لوگوں نے ایل جی انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ’’ایک جانب حکومت منشیات مخالف مہم چھیڑ رہی ہے اور دوسری جانب شراب کے کاروبار کو فروغ دے رہی ہے، جو منشیات کے خلاف حکومتی دعووں کو غلط ثابت کر رہی ہے۔‘‘ لوگوں کا ماننا ہے کہ ’’اس طرح کھلے عام دکان پر شراب فروخت ہونے سے منشیات کو فروغ ملے گا، نوجوان نسل منشیات، شراب خوری کی جانب راغب ہوگی جس سے مجموعی طور معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔‘‘