بیدر، کرناٹک:حکومت کی جانب سے معاوضوں کی عرصۂ دراز سے عدم ادائیگی کے خلاف کسانوں کا احتجاج جاری ھے۔ دفتر ڈپٹی کمشنر ضلع بیدر کے روبرو کسانوں نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ کسانوں کا یہ احتجاجی دھرنا گزشتہ 64 دنوں سے جاری ہے۔ کانگریس لیڈر ساجد علی نے کہا کہ ان کسانوں کا مطالبہ ہے کہ 1984 میں کارنجہ پروجیکٹ کی تعمیر کے بعد ان کے کھیتوں کی اراضیات کو جو نقصان پہنچا تھا اس کے عوض اس وقت کی حکومت نے انھیں پہلی قسط کے طور پر فی ایکڑ تین ہزار روپیوں کے حساب سے معاوضہ ادا کیا تھا۔ لیکن اس کے بعد 38 سال گزر جانے کے باوجود بھی حکومت نے ان متاثرہ کسانوں کو ان کے معاوضوں کے بقایہ جات ادا نہیں کیے۔ جس کے سبب آج اس علاقہ کے کسان اپنی قیمتی اراضی سے محروم ہوجانے کے سبب بیروزگار ہوگئے ہیں اور کافی پریشانیوں کا سامنا کررہے ہیں۔ Farmers Protest in Bidar enters 64th day
بیدر میں کسانوں کا احتجاج 64ویں دن میں داخل یہ بھی پڑھیں:
انھوں نے کہا کہ معاوضہ کی آج تک عدم ادائیگی کے سبب بہت سے کسان مجبور ہوکر اپنے دیہاتوں سے دیگر مقامات کو منتقل ہوگئے ہیں اور وہاں محنت مزدوری کرتے ہوئے سرکاری معاوضہ کا انتظار کررہے ہیں۔ ساجد علی رنجولوی نے کہا کہ کسانوں کو حکومت کی جانب سے اس بات کی یقین دہانی کی گئی تھی کہ انھیں ڈیم کی تعمیر کے لیے ان سے حاصل کردہ کھیتوں کی فی ایکڑ اراضی کے لیے 20 لاکھ روپیوں کا معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ لیکن اب تک بھی ریاستی حکومت کی جانب سے کوئی معاوضہ ان کسانوں کو ادا نہیں کیا گیا ہے۔
کسانوں کا احتجاج 64ویں دن میں داخل انہوں نے کہا کہ سابق میں دو سال قبل سابق چیف منسٹر کرناٹک کمار سوامی نے احتجاجی کسانوں کو یقین دلایا تھا کہ ان کے معاوضے جلد ادا کیے جائیں گے۔ لیکن آج تک بھی اس یقین دہانی کی تکمیل نہیں ہوسکی ہے۔ موجودہ بی جے پی حکومت بھی صرف یقین دہانیوں سے کام لے رہی ہے۔ کسانوں کے مذکورہ بالا طویل احتجاجی دھرنے میں مسٹر چندر شیکھر پاٹل صدر نشین کارنجہ، ملو گڑے سنت رستہ اتا رکشنا سمیتی، کسان رہنما امجد علی، مجاہد علی، محمد ساجد، فیاض الدین، محمد احمد، رمیش۔ کانگریسی قائد ساجد علی رنجولوی اور دیگر کئی ایک قائدین شریک تھے۔