جموں: جموں شہر کے جیول چوک علاقے میں پیر کو جموں و کشمیر پولیس نے جسم فروشی کے ایک ریکیٹ کا پردہ فاش کرنے کا دعوی کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جموں و کشمیر کی سرمائی دارالحکومت جموں میں پولیس نے پیر کے روز جسم فروشی کے دھندے میں شامل پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں ود خواتین بھی شامل ہے۔ بتایا جاتا ہیں کہ تینوں افراد کشمیر سے خواتین کو جموں میں نوکری دلانے کے بہانے لاتے تھے اور بعد میں انہیں جسم فروشی میں دکیلتے تھے۔
پولیس نے آج چیول چوک رچلینڈ نامی ہوٹل پر اس سلسلے میں چھاپہ ڈالا اس دوران پولیس نے ایک جسم فروشی اڈے کا پردہ فاش کرتے ہوئے پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اس اسکینڈل کو چلانے والی دو خواتین کا تعلق وادی کشمیر سے ہیں اور جن تین افراد کو گرفتار کیا ہے ان کی شناخت کپواڑہ کے محمد الطاف، اننت ناگ کے آصف حسین بھٹ اور نگروٹا جگتی کے تیجھ کرشن کے طور پر ہوئی ہے۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ تینوں نے پولیس کی حراست میں اعتراف کیا ہے کہ وہ کشمیر سے خواتین کو نوکریوں کا وعدہ کر کے جموں لاتے تھے اور پھر ان کو بلیک میل کرکے جسم فروشی کے دھندے میں دکیلتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ سرینگر سے تعلق رکھنے والی ایک طلاق یافتہ خاتون نے شکایت درج کروائی تھی کہ اسے جموں آنے کا جھانسہ دیا گیا اور پھر جسم فروشی پر مجبور کیا گیا۔اس سلسلے میں پولیس نے آج جموں کے ہوٹل پر چھاپہ مار کر اس رکیٹ میں ملوث تین افراد کو گرفتار کر لیا۔ کہا جا رہا ہے کہ تینوں افراد دیگر کئی خواتین کے رابطہ میں ہیں۔