مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹیو کونسل کی ایک میٹنگ میں چند روز قبل جموں و کشمیر میں سرکاری نوکریوں کے حصول کو نوجوانوں کے لیے آسان و صاف و شفاف بنائے جانے سے متعلق نئے قواعد و ضوابط وضع کیے گئے تاکہ درجہ چارم میں بھرتی کے عمل کو شروع کیا جائے۔
انتظامیہ کی جانب سے ان قواعد و ضوابط کی نیشنل کانفرنس اور جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے لیڈران نے شدید مذمت کی ہے۔
نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر و صوبائی سکریٹری برائے جموں شیخ بشیر نے ای ٹی وی بھارت کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’نوکریوں کے حصول کو لیکر وضع کی گئی نئی گائڈ لائنز بے روزگار نوجوانوں کے لئے ایک مذاق ہیں اور سرکار نے نوکریوں کو لیکر آج تک بہت بار جھوٹ بولا ہے یہ بھی سوائے دروغ گوئی کے کچھ بھی نہیں۔‘‘
انہوں نے سابق گورنر ستیہ پال ملک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’ستیہ پال ملک نے جموں کشمیر میں 50000 ہزار نوکریاں فراہم کرنے کا دعویٰ کیا تھا جو جموں و کشمیر کی عوام کے ساتھ ایک مذاق کے سوا کچھ بھی نہیں۔‘‘ شیخ بشیر نے لیفٹنٹ گورنر جی سی مرمو کی جانب سے سرکاری نوکروں کے حصول کے لیے ڈومیسائل قانون سمیت نئی گائیڈ لائنز کو بھی یہاں کی عوام کے لیے جھوٹ اور فریب سے تعبیر کیا۔