اردو

urdu

کشمیر: طلبا کا مستقبل تاریک ہونے کا خطرہ

کشمیر کے ڈویژنل کمشنر بصیر احمد خان کی طرف سے ہائر سکنڈری تک کے تمام اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کی ہدایات کے باوجود وادی میں مسلسل 60 ویں روز بھی تعلیمی سرگرمیاں متاثر رہیں۔

By

Published : Oct 3, 2019, 8:04 PM IST

Published : Oct 3, 2019, 8:04 PM IST

کشمیر: طلبا کا مستقبل تاریک ہونے کا خطرہ

اگرچہ اسکولوں میں تدریسی و غیر تدریسی عملہ حاضر رہا لیکن طلبا کی عدم موجودگی سے کلاس رومز میں سناٹا چھایا رہا۔

ڈویژنل کمشنر نے گزشتہ روز ایک اجلاس میں کہا تھا کہ 'وادی میں ہائر سکنڈری تک کے تعلیمی اداروں میں تین اکتوبر سے تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوں گی۔'

کشمیر: طلبا کا مستقبل تاریک ہونے کا خطرہ

اس سے قبل کشمیر انتظامیہ کے سینیئر عہدیداروں بشمول سرکاری ترجمان روہت کنسل اور ناظم تعلیم کشمیر نے ہائی اسکول سطح تک کے تمام سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے باوجود وادی میں تعلیمی سرگرمیاں گزشتہ دو ماہ سے لگاتار مفلوج ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسکولوں اور ہائر سکنڈریز میں عملہ تو موجود پایا گیا لیکن طلبا کہیں نظر نہیں آئے۔

اطلاعات کے مطابق کوٹھی باغ گرلز ہائر سکنڈری اسکول میں تدریسی و غیر تدریسی عملہ حاضر تھا لیکن ایک بھی طالب علم حاضر نہیں تھا۔

مذکورہ ہائر سکنڈری کے اسٹاف نے بتایا کہ 'موجودہ حالات کے پیش نظر والدین بچوں کو اسکول بھیجنے میں خطرات محسوس کرتے ہیں'۔

اطلاعات کے مطابق وادی کے ایس پی ہائر سکنڈری اسکول سمیت متعدد اسکولوں کے باہر بھی سی آر پی ایف کے اہلکار تعینات ہیں اور اسکولوں کے اندر بھی سی آر پی ایف کا دستہ تعینات ہے۔

سری نگر کے دیگر علاقوں میں بھی اسکولوں اور ہائر سکنڈری اسکولوں کا یہی حال دیکھا گیا۔ عملہ ڈیوٹی پر حاضر ہے لیکن بچے گھروں میں ہی بیٹھے ہوئے ہیں۔

والدین کا کہنا ہے کہ 'موجودہ حالات میں ہم بچوں کو اسکول بھجینے میں مختلف خطرات محسوس کرتے ہیں کیونکہ بچوں کے گھر سے نکلنے کے ساتھ ہی ان کے ساتھ رابطہ منقطع ہوجاتا ہے'۔

ادھر وادی کے دیگر ضلع صدر مقامات میں بھی اسکول کھلے لیکن اسٹاف کے حاضر اور طلبا کے غیر حاضر رہنے کی اطلاعات ہیں۔

وسطی ضلع بڈگام کے سرکاری وغیر سرکاری اسکولوں کا بھی یہی حال ہے عملہ بچوں کو پڑھانے کے لیے موجود تو ہے لیکن بچے گھروں میں ہی ہیں۔

تاہم یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ کئی علاقوں میں کئی باضمیر اور فرض شناس اساتذہ، اپنے گھروں کو ہی مدرسوں میں تبدیل کرکے بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔

ABOUT THE AUTHOR

...view details