گاندربل: اکنواری سرینگر سے گاندربل تک ہزاروں کنال پر پھیلے شالہ بگ ویٹ لینڈز میں سائبیریا، چین اور جاپان جیسے مقامات سے نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی نمایاں آمد دیکھی جا رہی ہے۔ یہاں سردیوں کے مہینوں میں ہونے والی سالانہ ہجرت خطے کی قدرتی خوبصورتی اور ثقافتی رونق میں اضافہ کرتی ہے۔
ہجرت کرنے والے پرندوں میں مشہور ہوکرسر کے پرندے بھی شامل ہیں، یہ پرندے اکتوبر میں شالہ بگ کے گیلے علاقوں کی طرف آتے ہیں۔ ہوا بازی میں اپنی فطری مہارت کے لیے مشہور یہ پرندے کشمیر کا سفر کرتے ہیں۔ پرواز کی لمبائی اور اونچائی میں ان کے قابل ذکر توازن کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پرندے کشمیر کے ماحولیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں وائلڈ لائف رینج آفیسر محمد اشرف کابلی نے کہا کہ ہم اس سال 10 سے 13 لاکھ نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی آمد کی توقع کرتے ہیں۔ پرندے اکتوبر میں آنا شروع ہوتے ہیں اور مارچ کے آخر تک ٹھہرتے ہیں۔ فی الحال کم ہی پرندے یہاں موجود ہیں لیکن یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔ پچھلے سال کشمیر کے آبی علاقوں میں 12 لاکھ نقل مکانی کرنے والے پرندے ریکارڈ کیے گئے تھے، جو کہ مختلف آبی پرندوں کے لیے موسم سرما اور افزائش گاہ کے طور پر خطے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔