نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے نچلی عدالت کو ہدایت دی ہے کہ وہ UAPA کی دفعات کے تحت گرفتار شخص کی ضمانت پر 75 دنوں کے اندر فیصلہ کرے۔ سماعت کے دوران عدالت نے پایا کہ 9 سال قبل گرفتاری کے بعد بھی آج تک نوجوان کے خلاف چارج شیٹ داخل نہیں کی گئی۔ عدالت 9 سال قبل نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے ذریعے گرفتار نوجوان کی درخواست ضمانت پر سماعت کر رہی تھی۔ سماعت کے دوران عدالت نے پایا کہ 9 سال قبل گرفتاری کے بعد بھی آج تک نوجوان کے خلاف چارج شیٹ داخل نہیں کی گئی۔ جس کی وجہ سے وہ بغیر کسی الزام کے 9 سال تک جیل میں رہنے پر مجبور ہیں۔ Delhi High Court Hearing on Bail Plea
Nine Years in Jail Without Charges نوجوان نو سال سے جیل میں، دہلی ہائی کورٹ کا سخت ردعمل - نو سال بعد بھی چارج شیٹ ندارد
نو برس قبل یو اے پی اے کے تحت گرفتار ملزم کے خلاف این آئی اے نے ابھی تک چارج شیٹ داخل نہیں کی ہے جس کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کو ہدایت دی ہے کہ وہ UAPA سیکشن کے تحت گرفتار شخص کی ضمانت پر 75 دنوں کے اندر فیصلہ کرے۔ Person Arrested Under UAPA Sections

جسٹس جسمیت سنگھ نے کالعدم تنظیم سیمی کے رکن ہونے کے الزام میں گرفتار منظر امام کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امام کو خصوصی عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے خصوصی عدالت کو درخواست ضمانت پر 75 دن میں فیصلہ کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ واضح رہے کہ منظر امام کو این آئی اے نے 2013 میں گرفتار کیا تھا۔ ان پر مبینہ شدت پسند تنظیم ایم آئی کا رکن ہونے اور ملک میں شدت پسندی کے واقعات کو انجام دینے کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کا الزام تھا۔ منظر پر الزام تھا کہ وہ نئے نوجوانوں کو ملک مخالف واقعات میں ملوث کرنے کے لیے بھرتی کر رہا تھا۔ اس کے ساتھ ملک کے مخالف سرگرمی جیسے جرائم کی منصوبہ بندی اور مجرمانہ سازش کا بھی الزام ہے۔