نئی دہلی: خواتین ریزرویشن بل یعنی ناری شکتی وندن ایکٹ کو صدر دروپدی مرمو سے منظوری مل گئی ہے۔ یعنی اب یہ ایکٹ قانون بن چکا ہے۔ یہ بل 20 ستمبر کو لوک سبھا اور 21 ستمبر کو راجیہ سبھا نے پاس کیا تھا۔ اس کے بعد اسے صدر کی منظوری کے لیے بھیجا جاتا ہے، تاکہ یہ قانون بن سکے۔ اس طرح جمعہ 29 ستمبر کی تاریخ اس بل کو قانون بنانے کی تاریخ ثابت ہوئی ہے۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد خواتین کو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں 33 فیصد ریزرویشن ملے گا۔ جب یہ بل پارلیمنٹ سے منظور ہوا تو صدر دروپدی مرمو نے کہا تھا کہ یہ صنفی انصاف کے لیے ہمارے دور کا سب سے زیادہ تبدیلی لانے والا انقلاب ہوگا۔
Woman Reservation Bill خواتین ریزرویشن بل صدر کی منظوری سے قانون بن گیا - خواتین ریزرویشن بل کو صدر نے منظور کرلیا
خواتین ریزرویشن بل کو صدر دروپدی مرمو نے منظور کرلیا۔ صدر کی منظوری کے بعد یہ بل اب قانون بن گیا ہے۔ صدر دروپدی مرمو کی رضامندی حاصل کرنے کے بعد حکومت ہند نے خواتین ریزرویشن بل کے لیے گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

Published : Sep 29, 2023, 7:43 PM IST
قانون کو مکمل طور پر لاگو کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے ریاستوں سے منظوری حاصل ہو، اس کے بعد اگلا مرحلہ مردم شماری کا ہے جو بہت اہم ہے اور آخری مرحلہ حد بندی ہے۔ ان راستوں سے گزر کر ہی یہ قانون مستحق لوگوں کو ان کے حقوق فراہم کر سکے گا۔
قانون بننے کے بعد، اگلا اور اہم مرحلہ ریاستوں سے بھی منظوری حاصل کرنا ہے۔ آرٹیکل 368 کے تحت اگر مرکز کے کسی قانون سے ریاستوں کے حقوق پر کوئی اثر پڑتا ہے تو اس قانون کو بنانے کے لیے کم از کم 50 فیصد اسمبلیوں کی منظوری لینی ہوگی۔ یعنی یہ قانون پورے ملک میں اسی وقت لاگو ہوگا جب کم از کم 14 ریاستوں کی اسمبلیاں اسے پاس کریں گی۔