بابری مسجد ملکیت مقدمہ میں سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بینچ کے ذریعے کل ثالثی کمیٹی کی مدت کارمیں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
ثالثی کمیٹی کی مدت کارمیں اضافہ کے پس منظر میں انہوں نے کہا کہ ہم اس فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہیں کیونکہ اس سے کمیٹی کو مصالحت کے لیے مزیدوقت مل جائے گا۔
مولانا سید ارشد مدنی نے یہ بھی کہا کہ مصالحتی فارمولہ کے لیے وقت کا بڑھایا جانا ایک خوش آئندبات ہے اور اس فیصلہ سے محسوس ہوتا ہے کہ ثالثی کمیٹی نے کوئی پیش رفت ضرور کی ہے ورنہ عدالت مدت کارمیں اضافہ نہ کرتی۔
مولانا مدنی نے مزید کہا کہ عدالت کے فیصلہ کا احترام کرتے ہوئے ہم صلح اور بات چیت کے لیے تیا رہوئے ہیں لیکن یہ بات چیت آستھا کی بنیادپرنہیں ملکیت کی بنیادپر ہونی چاہئے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے ایک پرانے تبصرے کا حوالہ دیا اورکہاکہ عدالت ابتدامیں ہی واضح کرچکی ہے کہ یہ آستھا کانہیں بلکہ ملکیت کا معاملہ ہے۔