نئی دہلی: سپریم کورٹ نے نئی ایکسائز پالیسی گھوٹالے میں گرفتار نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کے معاملے میں مداخلت کرنے سے انکار کردیا۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس نرسمہا کی دو رکنی بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کے لیے مختلف فورمز پر مختلف قانونی علاج دستیاب ہیں، جس میں دہلی ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست بھی شامل ہے۔ ہم اس معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتے۔ صرف دہلی میں واقعہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاملہ سپریم کورٹ میں آئے گا۔
اس پر سسودیا کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے ونود دعا کے کیس کا ذکر کیا۔ تب سی جے آئی نے کہا کہ یہ پریوینشن آف کرپشن ایکٹ کے بارے میں ہے۔ ونود دعا کا معاملہ بہت مختلف تھا، یہ کرپشن کا معاملہ ہے۔ ہائی کورٹ جائیں۔ ہمارے دروازے کھلے ہیں، لیکن اسے انٹرٹین کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ بہت بری مثال ہو گی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ ایس سی سے جو ریلیف مانگ رہے ہیں اس کے لیے ٹرائل کورٹ یا دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا جانا چاہیے۔ اس پر سنگھوی نے کہا کہ کم از کم انہیں جلدی سے کرنے کو کہیں۔