پڈوچیری کے وزیر اعلی نارائن سامی ، ڈی ایم کے کے ایم کے اسٹالن اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے شدید رد عمل کا اظہار کیا جب کہ ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی نے یوم ہندی کے موقع پر نیک خواہشات پیش لیکن کہا کہ تمام زبانوں اور ثقافتوں کا یکساں طور پر احترام کیا جانا چاہئے۔
مسٹر شاہ کے بیان پر سخت اعتراضات کرتے ہوئے دڑاوڑ منیتر کژگم (ڈی ایم کے) پارٹی کے صدر ایم کے اسٹالن نے سوال کیا کہ یہ ’انڈیا‘ ہے یا ’ہندیا‘۔
مسٹر اسٹالن نے کہا کہ ملک کی طاقت کثرت میں وحدت میں ہے اور یہ ہندوستانی ثقافت کی شناخت ہے۔ انہوں نے کہا ، ’’جب سے بی جے پی کی زیرقیادت حکومت اقتدار میں آئی ہے کئی وجوہات کی بناء پر وہ ملک کی اس شناخت کو ختم کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ ’’انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نے تمل زبان کو بچانے کے لئے ہندی زبان کے تسلط کی ہمیشہ مخالفت کرتی آئی ہے۔
اس کے علاوہ ، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے ٹوئیٹ کرکے کہا ، ’’ہندی ہر ہندوستانی کی مادری زبان نہیں ہے۔ کیا آپ مختلف مادری زبانوں کی تنوع اور خوبصورتی کی تعریف کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں؟ آئین کی دفعہ 29 ہر ہندوستانی کو ایک الگ زبان بولنے اور ثقافت کا حق دیتی ہے۔ ’’انہوں نے کہا ،’’ ہندوستان ہندی ، ہندو اور ہندو توا سے بہت بڑا ہے۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے بھی کہا ، ’’یوم ہندی مبارک ہو۔ ہمیں تمام زبانوں اور ثقافتوں کا احترام کرنا چاہئے۔ ہمیں دوسری زبانیں بھی سیکھنا چاہئے لیکن مادری زبان کو نہیں بھولنا چاہئے۔