سنہ 2016 میں حج کی ذمہ داری اقلیتی وزارت کے سپرد کی گئی، اس سے پہلے وزارت خارجہ امور حج کی ذمہ داری نبھاتی تھی، توقع یہ کی جارہی تھی کہ اقلیتی وزارت کے تحت حج کمیٹی کے حالات بہتر ہوں گے، لیکن موجودہ تصویر کچھ اور ہی بیاں کر رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ حج 2020 کی شروعات ہونے والی ہے اور اس کمیٹی کا کوئی مستقل سربراہ نہیں ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران کمیٹی کی مدت میں دو بار توسیع کی گئی مگر نئی کمیٹی کی تشکیل کے لئے کوئی انتخاب عمل میں نہیں لایا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ انڈونیشیا کے بعد بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے جہاں سے سب سے زیادہ عازمین حج مقدس سفر پر روانہ ہوتے ہیں، لیکن آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ ہمارے ملک میں جس حج کمیٹی آف انڈیا کے تحت سفر حج کا اہتمام کیا جاتا ہے اس کا کوئی بھی سربراہ نہیں ہے۔ حج کمیٹی آف انڈیا میں 23 ارکان ہوتے ہیں۔
بھارت میں چھ زون میں حج کمیٹی کا کام تقسیم ہے اور انہیں چھ زون سے منتخب ہو کر ممبران حج کمیٹی میں شامل ہوتے ہیں، پارلیمنٹ کے کوٹے سے ایک رکن پارلیمنٹ کو اسپیکر کے ذریعہ بھیجا جاتا ہے۔ اس کے بعد زون کے ارکان اور منتخب ممبران ( بہ شمول وزارت کے چنندہ افسران ) انتخابی مہم میں شریک ہو کر سربراہ، نائب سربراہ کا انتخاب کرتے ہیں۔
الیکشن کے اس عمل میں تقریبا چار ماہ کا وقت لگتا ہے۔ حج قانون کے مطابق حج کمیٹی آف انڈیا کی مدت تین سال کی ہوتی ہے۔ نئی حج کمیٹی کی تشکیل کے لئے چار مہینے پہلے ہی کاروائی شروع کر دی جاتی ہے تاکہ وقت پر ارکان اور سربراہ کا انتخاب ہو سکے۔