گیا :ریاست بہار کے ضلع گیا میں وزیر اعلیٰ اقلیتی روزگار قرض اسکیم کا خصوصی کیمپ اختتام ہوچکا ہے پچیس افراد کے ساتھ قرض کے لیے درخواست دہندگان کا معاہدہ ہوا ہے جبکہ کچھ لوگوں نے تاخیر کی وجہ سے رقم لینے سے انکار کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ اقلیتی روزگار قرض اسکیم کے تحت قرض کے خواہاں درخواست دہندگان کے لیے خصوصی کیمپ کا اختتام ہوگیا ہے تین جون سے کیمپ کا آغاز ہوا تھا اور یہ ان درخواست دہندگان کے لیے کیمپ لگایا گیا جنکی درخواست مالی سال 2017-18-19-20 سے پینڈنگ تھی اور انکے ساتھ محکمہ اقلیتی بہبود کے مالیاتی کارپوریشن کے اقرار نامہ کی کاپی پر دستخط نہیں ہوا تھا۔CM Minority Employment Loan Scheme Concludes
اقلیتی طبقے کے لوگوں کے مطابق برسوں سے زیرِ التواء درخواست کو لیکر سوال بھی کھڑے ہورہے تھے کہ آخر پانچ فیصد کی شرح سود پر ملنے والی رقم میں اتنی تاخیر کیوں ہوتی ہے؟ اس اسکیم میں سبسڈی نہیں ہے اور ہر حال میں رقم واپس کرنا ہوتا ہے پانچ سالوں کے لئے قرض مالیاتی کارپوریشن کی جانب سے ملتی ہے اگر پانچ سال سے زیادہ کا وقت گزرتا ہے تو اس پر چکرورتی سود نافذ ہوجاتا ہے۔ CM Minority Employment Loan Scheme
لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک طرح سے بینکوں سے بھی زیادہ پیچیدہ قرض اسکیم ہے باوجود کہ اس کو لینے میں اقلیتی طبقے کے لوگوں کا پسینہ چھوٹ جا تا ہے حالانکہ تاخیر ضلع سطح پر نہیں ہوتی ہے بلکہ مالیاتی کارپوریشن پٹنہ دفتر میں فائل گرد و غبار-آلود ہوتی ہیں مالیاتی کارپوریشن کی جانب سے جو وقت متعین ہوتاہے اتنے دنوں کے اندر ضلع سطح پر واقع اقلیتی دفتر سے ساری رپورٹ، سلیکشن فہرست وغیرہ بھیج دی جاتی ہے تاکہ وقت پر قرض کی رقم تقسیم ہو سکے لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے کہ تین یا چھ ماہ کے اندر رقم ادا ہوجائے بلکہ رقم ملنے میں برسوں کا وقت لگتا ہے۔Special Loan Camp Concludes