اردو

urdu

ETV Bharat / state

کشن گنج: 28ویں روز بھی شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج جاری - کشن گنج

اس مظاہرے میں آئے ایک 60 سالہ بزرگ نے کہا کہ ہم ہندوستان میں پیدا ہوئے ہیں اور یہیں مریں گے۔ ہمارے آباواجداد ہندوستانی تھے، ہم نے اپنی پوری زندگی یہیں گزاری ہے۔ اپنی جگہ زمین چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔

protest against caa continuous even on 28th day in kishangunj, bihar
کشن گنج: 28ویں روز بھی شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج جاری

By

Published : Feb 23, 2020, 9:01 PM IST

Updated : Mar 2, 2020, 8:13 AM IST

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ریاست بہار کے کشن گنج ضلع کے مودھو پنچایت میں پچھلے 28 دنوں سے احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔

کشن گنج: 28ویں روز بھی شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج جاری

اس پنچایت کے تحت 15 گاؤں آتے ہیں جہاں تقریباً آٹھ ہزار کی آبادی بستی ہے۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف منعقد اس احتجاجی مظاہرہ میں ہر روز ہزاروں کی تعداد میں خواتین و حضرات شرکت کرتے ہیں اور سی اے اے، این آر سی اور این پی آر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

نمائندہ ائی ٹی وی بھارت نے احتجاجی جلسہ میں پہنچ کر مظاہرین سے گفتگو کی اور ان سے ان کے مطالبات کو جاننے کی کوشش کی۔

اس مظاہرے میں آئے ایک 60 سالہ بزرگ نے کہا کہ ہم ہندوستان میں پیدا ہوئے ہیں اور یہیں مریں گے۔ ہمارے آباواجداد ہندوستانی تھے، ہم نے اپنی پوری زندگی یہیں گزاری ہے۔ اپنی جگہ زمین چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔

وہیں جلسہ کے کنوینر بابل عالم نے کہا کہ ملک اس وقت برے دور سے گزر رہا ہے۔ مزہب کی بنیاد پر شہریت ترمیمی قانون نافذ کر کے ملک کو بانٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا ہماری کوشش ہے کہ جمہوریت اور امبیڈکر کے آئین کو بچانے کی ہرممکن کوشش کی جائے اس لئے یہ احتجاج کیا جا رہا ہیں اور یہ پاحتجاج اس وقت تک جاری رہیں گا جب تک حکومت شہریت ترمیمی قانون واپس نہ لیا جائے۔

Last Updated : Mar 2, 2020, 8:13 AM IST

ABOUT THE AUTHOR

...view details