ریاست بہار کے ضلع گیا میں واقع اقلیتی ادارہ مرزا غالب کالج ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ Mirza Ghalib College again in headlines جمعہ کو سابق سکریٹری شبیع عارفین شمسی پولیس کو لیکر کالج پہنچے تھے ان کے ساتھ گورننگ باڈی کے چار دیگر ارکان بھی تھے، بتایا جارہا ہے کہ سابق سکریٹری شبیع عارفین شمسی کو سکریٹری کے عہدے کا چارج دلانے رام پور تھانہ کے ایس ایچ او پہنچے پھر کچھ دیر بعد سٹی ڈی ایس پی بھی پہنچے، دراصل معاملہ یہ ہے کہ گزشتہ سات جولائی کو ہائی کورٹ نے مرزا غالب کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر کی بحالی کے معاملے پر سنوائی کرتے ہوئے دو اسسٹنٹ پروفیسر اور کالج سکریٹری کو ان کے کام کاج سے روک دیا تھا۔
جس کے بعد مرزا غالب گورننگ باڈی کی میٹنگ ہوئی اور اس میں ہائی کورٹ کی ہدایت کا حوالہ دیکر سکریٹری شبیع عارفین شمسی کو سکریٹری کے عہدے سے ہٹانے کی تجویزمظور کی گئی، نئے سکریٹری کے طور پر ایڈوکیٹ شاہ زماں انور منتخب ہوئے، اس عمل کے بعد سابق سکریٹری نے ہائی کورٹ میں اپنا موقف رکھا ، جمعہ کو ہائی کورٹ کی نئی ہدایت اور یونیورسیٹی کے لیٹر کی کاپی لیکر سابق سکریٹری کالج پہنچے، شبیع عارفین شمسی نے اس حوالے سے بتایا کہ گزشتہ سات جولائی کی ہدایت کو ہائی کورٹ نے ختم کردیا ہے اب ہائی کورٹ کی ہدایت کی روشنی میں وہ سکریٹری ہوچکے ہیں اور اس لیے وہ کالج گئے تھے۔'
انہوں نے کہاکہ 'یونیورسیٹی نے بھی کئی ہدایت جاری کی ہے کورٹ اور یونیورسیٹی کی ہدایت پر عمل کرنا لازم ہے پولیس افسران ہائی کورٹ کی ہدایت کو عمل کرانے گئے تھے انہوں نے کہاکہ چونکہ ہائی کورٹ نے پہلے یعنی کہ سات جولائی کو بھی انہیں عہدے سے برطرف کرنے کی ہدایت نہیں دی تھی بلکہ کام سے روکا تھا گورننگ باڈی نے اسی کا حوالہ دیکر انہیں ہٹایا تھا اب جب کہ کورٹ نے کام کاج کو بحال کردیا ہے تو اس صورت میں وہ سکریٹری ہوگئے ہیں۔