وشاکھاپٹنم: ریاست آندھر پردیش کے ضلع وشاکھاپٹنم کے ایک آشرم میں سوامی نے ایک نابالغ بچی کے ساتھ دو سال تک عصمت دری کی۔ متاثرہ نے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم سوامی کو پیر کی آدھی رات کو گرفتار کر لیا۔ متاثرہ کی عمر 15 سال بتائی جاتی ہے۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ اس کے والدین کا کافی عرصہ پہلے انتقال ہو گیا تھا۔ رشتہ داروں نے اسے راجہ مہندرا ورم کے قریب ایک ہاسٹل میں داخل کرایا۔ جہاں اس نے پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد دو سال پہلے کچھ سادھوؤں کے ذریعے وہ خدمت کے لیے آشرم پہنچی۔
متاثرہ نے بتایا کہ اسے آشرم میں گایوں کی خدمت کا کام دیا گیا تھا۔ اس کا کام گایوں کو چرانا اور ان کا گوبر صاف کرنا تھا۔ لیکن رات کو آشرم کا مالک اسے اپنے کمرے میں لے جاتا اور اس کی عصمت دری کرتا۔ اس نے بتایا کہ کئی سوامی اسے زنجیر سے باندھ کر رکھتے تھے۔ سوامی لڑکی کو دھمکی دیتا تھا کہ اگر اس نے اس کی بات نہ مانی تو وہ اسے مار ڈالے گا۔
متاثرہ نے پولیس کے سامنے دل دہلا دینے والی گواہی دی ہے۔ متاثرہ نے بتایا کہ جب وہ سوامی کی مخالفت کرنے لگی تو اس نے اسے زنجیر میں باندھ کر رکھنا شروع کر دیا۔ اس نے اسے تقریباً ایک سال تک باندھے رکھا۔ وہ اسے کھانے کے لیے صرف چاول اور پانی دیتا۔ حتیٰ کہ اس کے نہانے اور صفائی پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ سوامی نے اسے کئی بار بالٹی میں حاجت پوری کرنے پر مجبور کیا۔
اس نے بتایا کہ وہ 13 تاریخ کو آشرم میں کام کرنے والی ملازمہ کی مدد سے وہاں سے فرار ہوئی۔ ملازمہ نے اسے کچھ رقم بھی دی۔ جہاں سے وہ براہ راست آٹو کے ذریعے وشاکھاپٹنم ریلوے اسٹیشن پہنچی۔ وہاں وہ تروملا ایکسپریس میں سوار ہوئی۔ ٹرین میں ایک خاتون مسافر نے اس سے بات کی۔ متاثرہ نے اپنی ساری بات اس مسافر کو بتا دی۔ وہ خاتون مسافر بچی کو اپنے ساتھ راجہ مہندراورم لے گئی۔ کچھ دن پہلے خاتون نے اپنے بھائی کی مدد سے لڑکی کو ہاسٹل میں داخل کرانے کی کوشش کی۔ لیکن انہیں بتایا گیا کہ پولیس سرٹیفکیٹ کے بغیر لڑکی کو داخلہ نہیں دیا جائے گا۔