اردو

urdu

ETV Bharat / state

Shrinking Agri Land in Kashmir: زرعی اراضی سکڑنے سے چاول مہنگا، باغات اور تعمیرات کا بڑھتا رجحان اصل وجہ - چاول وادی کشمیر کے باشندوں کی بنیادی خوراک

چاول وادی کشمیر کے باشندوں کی بنیادی خوراک ہے اور یہاں کی ایک بڑی آبادی زرعی شعبہ سے وابستہ ہے۔ دفعہ 370کی تنسیخ کے بعد زرعی اراضی میں ترمیم کی وجہ سے ایگریکلچر اراضی کو ہارٹیکلچر میں تبدیل کیا جا رہا ہے جبکہ سینکڑوں کنال پر تعمیری سرگرمیاں بھی انجام دی جا رہی ہیں۔

a
a

By ETV Bharat Urdu Team

Published : Oct 27, 2023, 4:18 PM IST

Updated : Oct 28, 2023, 12:35 PM IST

زرعی اراضی سکڑنے سے چاول مہنگا، باغات اور تعمیرات کا بڑھتا رجحان اصل وجہ

اننت ناگ:وادی کشمیر کی ایک خاصی آبادی زرعی شعبہ سے وابستہ ہے، تاہم سیب کے باغات اور تعمیرات کے بڑھتے رجحان سے زرعی اراضی سکڑ رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران دھان کے زیر کاشت زرعی اراضی میں 10 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق وادی میں 1.40 لاکھ ہیکٹر اراضی پر دھان یعنی چاول کی کھیتی کی جاتی تھی جو اس وقت سکڑ کر 1.29 لاکھ ہیکٹر رہ گئی ہے۔

وادی کشمیر میں چاول بنیادی خوراک ہے۔ لیکن پیداواری صلاحیت کم ہونے کے سبب یہاں کی طلب، رسد کو پورا نہیں کر پا رہی ہے۔ دراصل آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ زرعی اراضی بھی سکڑنے لگی ہے۔ ایک طرف زرعی اراضی کنکریٹ کمرشل و رہائشی کالونیز کی تعمیرات کی زد میں آرہی ہے، تو دوسری جانب سیب کے باغات خاص کر اٹلی سے درآمد شدہ ہائی ڈینسٹی باغات کا رجحان بڑھنے سے دھان کی اراضی تیزی سے سکڑنے لگی ہے۔ جس کا اثر براہ راست چاول کی پیداوار پر پڑا ہے۔

ادھر، سرکار کی جانب سے فراہم کی جا رہی چاول پر سبسڈی ختم کرنے اور کوٹا کو محدود کرنے سے صارفین کی ضرورت پوری نہیں ہو پا رہی ہے۔ لوگ بازاروں سے مہنگے داموں پر چاول خریدنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ان دنوں بازار میں چاول 4 ہزار روپے فی کونٹل فروخت کیا جا رہا ہے وہیں جو مقامی چاول گزشتہ برس 2000 سے 2500 تک ایک کونٹل میسر تھا، پیداوار کم ہونے کے سبب آج 5000 سے 6000 روپے فی کونٹل تک فروخت کیا جا رہا ہے، یعنی گزشتہ ایک برس کے اندر چاول کی قیمتوں میں تقریبا دو گنا اضافہ ہوا ہے۔

محکمہ زراعت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے وقت میں کشمیری چاول کی قیمتیں 8 ہزار سے 10 ہزار فی کونٹل پہنچنے کے آثار ہیں، کیونکہ زرعی اراضی کی تبدیلی میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے چاول کی پیداوار کافی متاثر ہوئی ہے، وہیں ان کا ماننا ہے کہ مستقبل میں کسان دھان کی پیداوار کو پھر سے ترجیح دیں گے اور وہ دھان کی کاشتکاری کی جانب متوجہ ہونگے۔

اگرچہ وادی کشمیر کو چاول کی پیداوار میں خود کفیل بنانے کے لئے سرکار کی جانب سے کوششیں کی گئیں تھیں، تاکہ یہاں کے لوگ باہر کی ریاستوں پر منحصر نہ رہ سکیں، اس کے لیے زرعی اراضی کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے لینڈ ریونیو ایکٹ کی دفعہ 133 کے تحت ( آبی اول) یعنی چاول کی کاشت کے لئے استعمال کی جانے والی زمین پر کوئی بھی تعمیری سرگرمی انجام نہیں دی جا سکتی حتی کہ اس اراضی کو باغات میں تبدیل کرنے پر بھی مکمل پابندی عائد تھی۔ اس قانون کے زمرے میں سبزیاں اور زعفران کے کھیت بھی شامل تھے۔

مزید پڑھیں:Agrarian Law Amended in JK جموں وکشمیر میں زرعی قوانین کی ترمیم کو منظوری

دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر زرعی اراضی قوانین میں ترمیم کی گئی جس کے بعد زعفران کے زیر کاشت اراضی کو چھوڑ کر دیگر اراضی سے پابندیاں ختم ہو گئیں۔ پابندیاں ختم ہونے کے بعد زرعی اراضی پر تعمیرات کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ وادی کے شہرو دیہات میں زرعی اراضی کو سیب کے باغات اور رہائشی و کمرشل تعمیرات میں تبدیل کرنے کا سلسلہ بتدریج بڑھ رہا ہے۔

Last Updated : Oct 28, 2023, 12:35 PM IST

ABOUT THE AUTHOR

...view details