وبائی صورت حال کے پیش نظر جہاں زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہے وہیں بقر عید پر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت میں نمایا کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
بقر عید سے قبل کچھ ایسے لوگ بازاروں کا رخ کرتے تھے جو سال بھر مویشی پال کر انہیں منڈیوں میں لے جاتے تھے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مویشی فروخت کرکے ان کی روزی روٹی اور سال بھر کا خرچہ بقر عید کے موقعے پر نکلتا تھا لیکن وبائی صورتحال نے زندگی کی رفتار دھیمی کرکے اس تجارت سے جڑے افراد کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔
پہلگام کے رہائشی محمد رقیب خان کا روزگار میوشیوں سے جڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'بڑی محنت سے ہم سال بھر بھیڑ پالتے ہیں تاکہ بقر عید کے موقعے پر ان کا اچھا دام مل سکے اور عید الاضحی سے قبل ہم بازاروں کا رخ کرتے ہیں تاکہ بھیڑ فروخت کرکے اپنی روزی روٹی کا انتظام کر سکیں۔ حسب معمول ہم وبائی صورتحال کے دوران بھیڑ بکریوں کو فروخت کرنے کی غرض سے بازاروں کی جانب رواں دواں ہیں لیکن عید کو صرف دو دن رہ گئے ہیں۔ ہم ابھی بھی تشنہ خریدار ہیں اور ابھی تک ایک جانور بھی فروخت نہیں ہوا۔ ہم بہت زیادہ پریشان ہیں کیونکہ ہم سال بھر ان ایام کا انتظار کرتے ہیں تاکہ روزی روٹی کا انتظام ہو جائے۔'