ضلع سرینگر کے باغات علاقے میں عسکریت پسندوں کےحملے میں مارے گئے پولیس اہلکار سہیل احمد کو ان کے آبائی ضلع اننت ناگ کے عیش مقام میں سپرد خاک کیا گیا۔
سہیل احمد کی ہلاکت کی خبر سنتے ہی علاقہ میں ماتم کی لہر دوڈ گئی۔ مقامی لوگ ہلاک شدہ پولیس اہلکار کے گھر کی طرف رخ کرنے لگے اور سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ان کے گھر کے صحن میں جمع ہو گئے۔ لوگوں نے نم آنکھوں کے ساتھ سہیل احمد کو سپرد خاک کیا۔
سہیل اپنے پیچھے اپنی اہلیہ، دو کمسن بچے، والدہ اور ضعیف العمر دادا و دادی چھوڑ گئے ہیں۔ ان کے والد کئی برس قبل اس دنیا فانی سے گذر چکے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق 'سہیل کے والد بچپن میں ہی گزر گئے تھے، جس کے بعد سہیل کو دادا، دادی اور چاچا نے پال پوس کر بڑا کیا۔ آٹھ برس قبل سہیل پولیس میں بھرتی ہوئے اور وہ اپنی نوکری کے ذریعہ اپنے اہل خانہ کی کفالت کر رہے تھے۔ ان کے گزر جانے کے بعد ان کا کنبہ بے سہارا ہو گیا ہے'۔