امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے ہفتے کے روز ایک بار پھر خطرناک ایندھن رساو کی وجہ سے نئے قمری راکٹ کی لانچنگ کو ملتوی کردیا ہے۔ اس سے قبل پیر کو طے شدہ ٹیسٹ کے وقت ایندھن کے لیک ہونے اور انجن میں خرابی کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑا تھا۔اNASA Postpones Launching Moon Rocket Again ناسا راکٹ کے ذریعے چاند کے گرد 'کریو کیپسول' بھیجنا چاہتا ہے اور اس کے بعد اگلی پرواز کے ذریعے خلابازوں کو چاند پر بھیجنے کا منصوبہ ہے۔ اگر پانچ ہفتوں پر محیط 'کیپسول' ٹیسٹ کامیاب رہا تو خلاباز 2024 میں چاند پر جاسکتے ہیں اور 2025 میں اس تک پہنچ سکتے ہیں۔ آخری مرتبہ ایک خلاباز نے چاند پر 50 سال قبل پہنچا تھا۔
ماہرین موسمیات نے ہفتے کے روز کینیڈی خلائی اسٹیشن پر ٹیسٹ کے لیے مقررہ دو گھنٹوں میں سازگار موسم کی پیش گوئی کی تھی۔ اس کے علاوہ، راکٹ کے لیڈ انجینئر نے بہتر فیول سپلائی لائن اور طریقہ کار میں تبدیلیوں پر اعتماد کا اظہار بھی کیا تھا۔ خلائی جہاز 322 فٹ یا 98 میٹر لمبا ہے، جو اسے ناسا کی طرف سے بنایا گیا اب تک کا سب سے طاقتور راکٹ بناتا ہے اور اپولو پروگرام کے خلابازوں کو چاند تک لے جانے والے Saturn-5 سے زیادہ طاقتور ہے۔