تہران: ملک کے کارکن اور انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق، اتوار کو ایران بھر کی یونیورسٹیوں میں ایرانی طلباء کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔ سی این این کی خبر کے مطابق، اتوار کا تشدد اس وقت ہوا جب ملک کے نیم فوجی انقلابی گارڈ کی دھمکیوں کے باوجود ملک گیر مظاہروں نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ حسین سلامی نے نوجوان ایرانیوں کو خبردار کیا تھا کہ ہفتہ کو ان مظاہروں کا آخری دن ہوگا جو 16 ستمبر کو ملک کی اخلاقی پولیس کی حراست میں مہسہ امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوا تھا۔ Iran protest
سی این این کی خبر کے مطابق، ہفتے کے روز سلامی نے خاص طور پر ایرانی نوجوانوں سے احتجاج کرنے سے باز رہنے کی اپیل کی۔ انھوں نے کہا کہ آج ہنگامہ آرائی کا آخری دن ہے، دوبارہ سڑکوں پر مت آنا، تم اس قوم سے کیا چاہتے ہو؟۔ اسکے باوجود سب سے بڑا احتجاجی اجتماع اسلامی آزاد یونیورسٹی کی مرکزی تہران شاخ میں ہوا، سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا بھر پور استعامل کرتے ہوئے آنسو گیس کے شیل بھی فائر کیے۔