شنگھائی تعاون تنظیم کا 22 واں سربراہی اجلاس اس ہفتے 15 اور 16 ستمبر کو ازبکستان میں منعقد ہونے والا ہے۔ اس دوران بھارت، پاکستان اور چین کے اہم رہنما ایک ہی چھت کے نیچے نظر آئیں گے۔ وہیں اس بات کا بھی امکان ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی چینی صدر شی جن پنگ اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ SCO summit in Samarkand وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم مودی 15- 16 ستمبر کو ازبکستان صدر شیکت مرزیوئیف کی دعوت پر ازبکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ وہ سمرقند میں ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے اور اس چوٹی کانفرنس کے موقع پر مودی کچھ لیڈروں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔
اگرچہ ابھی تک اس بارے میں مزید معلومات نہیں دی گئی ہیں۔ قابل غور ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے آٹھ رکن ممالک کے سربراہان شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے جن میں چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے ولادیمیر پوتن، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر ابراہیم رئیسی بھی شامل ہیں۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق مودی کی ایران کے نئے صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کا امکان ہے۔ وہیں پاکستان کی میڈیا کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ پاکستان اجلاس میں مودی اور شہباز کی دوطرفہ ملاقات کا مطالبہ نہیں کرے گا تاہم کسی بھی دو رہنماؤں کی ملاقات کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ دفتر خارجہ اس ہفتے کے آخر میں ملاقاتوں کے حتمی شیڈول کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں:
SCO Defence Meeting ایس سی او ممالک کو دہشت گردی کے خاتمے کیلئے متحد ہونا چاہیے، راج ناتھ