استنبول: پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ترکی کوپاک-چین اقتصادی راہدی (سی پیک) میں شامل ہونے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین اور پاکستان بہترین دوست ہیں اور ہم صدر شی جن پنگ کے بلیٹ اینڈ روڈ وژن کے تحت ثمرات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور میں اسے ترکی تک وسعت دینے کی تجویز پیش کرتا ہوں، اس سے خطے میں ترقی اور خوش حالی آئے گی۔جب کہ ترکی صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ ترکیہ کے لوگوں کے دل میں پاکستانی عوام کے لیے خاص جگہ ہے۔Sharif invites Turkey to join CPEC
استنبول میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ یہ زبردست شراکت داری ہوگی، اس سے پورے خطے میں ترقی اور خوش حالی آئے گی، اس سے بے روزگاری اور غربت ختم کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے میں چینی دوستوں سے بات کرنے کے لیے بخوشی تیار ہوں، اگر ہم اس سمت میں چلیں تو یہ بہترین موقع ہوگا۔انہوں نے نے ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزرا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اپنے دوسرے گھر کا دورہ کرتے ہوئے ترکی کے بھائی، بہنوں سے تبادلہ خیال کرکے مجھے بڑی خوشی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس آپ کی سخاوت اور مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں، ہماری دلی ہمدردیاں ان شہدا کے لواحقین کے ساتھ ہیں جو استنبول میں حالیہ دہشت گردی کے واقعے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، اس واقعے میں ہماری ترکی کے بے گناہ بہن بھائی شہید ہوئے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہم بھی ایسے سانحات سے گزر چکے ہیں، پاکستان کے عوام نے بھی بڑی قیمت ادا کی ہے، ہزاروں لوگوں نے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے اپنی جانیں قربان کی ہیں، اس لیے ہم صدر رجب طیب اردوان اور ترکی کے عوام کے احساسات اور جذبات کو سمجھ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاک بحریہ کے جہاز میلجم کارویٹ خیبر کی افتتاحی تقریب میں شرکت پر فخر ہے، مشترکہ طور پر یہ جہاز ترکی اور پاکستان میں تیار کرنا ہمارے عزم، ہماری سنجیدگی اور باہمی تعاون کے فروغ کو ظاہر کرتا ہے، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، صنعت اور دفاع شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تناؤ کی صورت حال بڑھ رہی ہیں جس کی وجہ سے اشیائے خور و نوش کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کررہی ہیں، گندم، پیٹرولیم مصنوعات، کھاد سمیت دیگر ضروری اشیا شامل ہیں، ان کی درآمدات ترقی پذیر ممالک کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں۔
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس لیے صرف دفاع نہیں بلکہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے، ہم 2 زبانیں ضرور بولتے ہیں لیکن ہم ایک دوسرے کو بہت اچھے سے سمجھتے ہیں، یہ ایک خاندان کی طرح ہے۔