ٹائٹن آبدوز میں سوار تمام پانچوں افراد المناک طور پر ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس کی تصدیق کرتے ہوئے آبدوز آپریٹنگ کمپنی (OceanGate) نے خراج تحسین پیش کیا ہے۔ آبدوز میں سوار تمام افراد ڈوبے ہوئے ٹائٹینک جہاز کا ملبہ دیکھنے گہرے سمندر میں گئے تھے جہاں ان کا رابطہ منقطع ہوگیا۔ 18 جون کو اوشین گیٹ کمپنی کی یہ آبدوز سفر پر نکلی تھی لیکن پہلے 2 گھنٹے میں ہی رابطہ منقطع ہو گیا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سرچ ٹیم کو لاپتہ آبدوز کا ملبہ ٹائٹینک جہاز کے قریب سے مل گیا ہے۔ امریکی کوسٹ گارڈ کے مطابق آبدوز کا ملبہ ملنے کے بعد ماہرین کی ٹیم نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ آبدوز کا ملبہ کینیڈا کے ایک جہاز میں تعینات ایک بغیر پائلٹ روبوٹ نے دریافت کیا ہے۔ ٹائٹن آبدوز پر سوار پانچوں افراد معروف ارب پتی تھے۔ اس میں اوشین گیٹ کمپنی کے سی ای او اسٹاکٹن رش، پرنس داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان داؤد، ہمیش ہارڈنگ اور پال-ہنری نرگیولیٹ شامل تھے۔
واضح رہے کہ 18 جون کو امریکی کمپنی اوشین گیٹ کی یہ آبدوز ٹائیٹینک کے ملبے کو دکھانے کے لیے اپنے سفر پر روانہ ہوئی۔ ملبے تک پہنچنے کے لیے ٹائٹینک کا دورہ، وہاں گھومنا پھرنا اور پھر واپس آنا تقریباً آٹھ گھنٹے تک جاری رہتا ہے۔ٹائیٹینک کے ملبے کے قریب جانے میں دو گھنٹے لگتے ہیں۔ چار گھنٹے تک آبدوز ملبے کے ارد گرد کا منظر دکھاتا ہے، جس کے بعد واپسی میں بھی تقریباً دو گھنٹے لگتے ہیں۔