گذشتہ دنوں سری لنکا کے نگامبو شہر میں ایک ہجوم نے مسلمانوں کے دکانات اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی۔ جس کے بعد دونوں مذاہب کے رہنماؤں نے فساد سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور لوگوں پر زور دیا کہ انہیں جذبات کے بجائے عقل و دانشمندی سے کام کرنا چاہیے۔
سری لنکا میں مذہبی ہم آہنگی پر زور روحانی پیشوا میلکوم رانجت کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اپنی سمجھ بوجھ سے کام لینا ہوگا۔ جذبات لوگوں کو گمراہ کر سکتے ہیں۔ ہمیں حقائق سے واقف ہونے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب مسلم برادری نے کہا کہ انہیں لا اینڈ آرڈر پر مکمل بھروسہ ہے۔ صبر، تحمل، عقل و فراست سے حالات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
مسلم رہنما مفتی رضوی کا کہنا ہے کہ رمضان شروع ہونے جارہا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔ خاص طور پر میری نوجوانوں سے گزارش ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھروسہ رکھیں اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔
علاقے کے مسلمانوں کے مطابق، سب سے پہلے ان کی دکانوں پر پتھراؤ کیا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ فساد کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا جبکہ چند روز قبل ہی سری لنکا کے کئی کئی مقامات پر حملے کیے گئے جن میں تقریبا 250 افراد ہلاک ہوگئے۔