ہندی سنیما کی مشہور و تجربہ کار اداکارہ شبانہ اعظمی نے حال ہی میں 2002 گجرات فسادات کے دوارن بلقیس بانو کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے 11 قصورواروں کی رہائی پر اپنا ردعمل ظاہر کیا۔ ایک ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران اداکارہ کی آنکھیں نم ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس فیصلے سے بہت شرمندہ اور حیران ہیں۔Shabana Azmi on Bilkis Bano Gang Rape Case
بلقیس بانو اجتماعی جنسی زیادتی معاملے میں 11 مجرموں کی رہائی پر اداکارہ شبانہ اعظمی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ' مجھے توقع تھی کہ گجرات حکومت کی طرف سے ان مردوں کو جیل سے رہا کرنے کے بعد سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے لوگوں میں غصہ نظر آئے گا لیکن میں اس بات سے حیران ہوں کہ ایسا کچھ نہیں ہوا'۔
واضح رہے کہ سال 2002 گجرات فسادات کے دوران بلقیس بانو کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی۔ اس وقت وہ پانچ ماہ کے حمل سے تھیں۔ یہ حملہ آور ان کے پڑوسی تھے۔ ان حملہ آوروں نے ظلم و زیادتی کی انتہا کو پار کرتے ہوئے ان کی تین سالہ بیٹی سمیت بلقیس کے خاندان کے 14 افراد کا قتل کردیا تھا۔ لیکن 15 اگست کو بلقیس بانو کے ساتھ زیادتی کرنے والے سزا یافتہ 11 افراد کو گودھرا سب جیل سے گجرات حکومت کے حکم پر رہا کردیا گیا۔ معافی کی پالیسی کے تحت ان کی رہائی کی اجازت دی گئی تھی۔
شبانہ اعظمی نے این ڈی ٹی وی کو اپنے انٹرویو میں کہا کہ ' میرے پاس (بلقیس بانو کے لیے) الفاظ نہیں ہیں لیکن میں اس سے بہت شرمندہ ہوں۔ میرے پاس کہنے کے لیے کوئی دوسرا لفظ نہیں ہے'۔انہوں نے کہا کہ ' اس عورت کے ساتھ اتنا بڑا سانحہ ہوا ہے اور انہوں نے پھر بھی ہمت نہیں ہاری اور لڑائی لڑتی رہی۔ انہوں نے ان لوگوں کو سزا دلوائی اور جب وہ اپنی زندگی کو دوبارہ پٹری پر لانے کی کوشش کر رہی ہیں تب ان کے سامنے یہ فیصلہ آتا ہے۔ تب کیا ہمیں ان کے لیے لڑنا نہیں چاہیے۔ کیا ہمیں اپنے گھروں کے کھڑکی اور چھتوں سے چیخنا اور شور نہیں مچانا چاہیے کہ اس عورت کے ساتھ کیا انصاف ہوا ہے؟
' وہ خواتین جو اس ملک میں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں، وہ خواتین جو روز جنسی زیادتی کے خطرے کا سامنا ہے، کیا انہیں تحفظ کا احساس نہیں ہونا چاہیے؟ میں اپنے بچوں، پوتوں کو کیا جواب دوں؟ میں بلقیس سے کیا کہوں؟ میں شرمندہ ہوں'۔
بلقیس کے بارے میں بات کرتے ہوئے شبانہ جذباتی ہوجاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ' اس چیز نے مجھے حیران کردیا ہے کیونکہ جب یہ ہوا تو میں نے توقع کی تھی کہ اس فیصلے پر غم و غصے کا اظہار کیا جائے گا۔میں نے دو دن، تین دن انتظار کیا۔ میڈیا میں بھی اس معاملے پر کوئی بحث نہیں ہوئی۔ ایک دن میں کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھی تھی اور وہاں بلقیس بانو کیس پر باتیں ہو رہی تھی۔ وہ کہہ رہے تھے 'اس میں کیا بڑی بات ہے؟ وہ سزا بھگت چکے ہیں، اب کیا شور مچانا ؟ وہ اس بات سے بھی پوری طرح واقف نہیں تھے کہ کیا ہوا ہے، انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان 11 مجرموں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ میں صرف حیران تھی کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ اب بھی مجھے لگتا ہے کہ جو کچھ ہوا ہے اس کی ناانصافی اور ہولناکی کے بارے میں لوگوں کو کافی سمجھ نہیں ہے۔"