کولکاتا: شاہ رخ خان نے جمعرات کی شام کولکاتا انٹرنیشنل فلم فیسٹیول 2022 (KIFF) میں شرکت کی۔ فیسٹیول کے افتتاح کے موقع پر اپنی تقریر کے دوران اداکار نے سوشل میڈیا پر موجود منفی ماحول کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ 'ہم جیسے لوگوں کے اطراف میں چاہے کچھ بھی ہو لیکن وہ مثبت رہیں گے'۔ شاہ رخ خان کا یہ تبصرہ ان کی آئندہ فلم 'پٹھان' کے ایک گانے بیشرم رنگ پر ہوئے تنازع کے درمیان آیا ہے۔ شاہ رخ خان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آنا دلچسپ ہے کیونکہ شاہ رخ کی آئندہ فلم پٹھان کو بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ ٹویٹر پر زوروں سے ٹرینڈ کر رہا ہے۔ حالانکہ اداکار نے پٹھان کا ذکر کیے بغیر سوشل میڈیا پر 'تنگ نظریات' اور منفی سوچ رکھنے والوں پر بات کی۔ کولکاتا انٹرنیشنل فلم فیسٹیول KIFF کے افتتاح کے موقع پر ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے خان نے کہا کہ سینما انسانیت کی ہمدردی، اتحاد اور بھائی چارے کی بے پناہ صلاحیت کو سامنے لاتا ہے۔SRK Speech at KIFF
اس عظیم الشان فلم فیسٹیول کا افتتاح مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے ساتھ ساتھ امیتابھ بچن، جیا بچن اور رانی مکھرجی سمیت بالی ووڈ کی کئی بڑی شخصیات کی موجودگی میں کیا گیا۔ اس موقع پر شاہ رخ نے ایک تقریر کی، جس کے کچھ حصے اداکار کے فین کلبوں نے آن لائن شیئر بھی کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ' چاہے کچھ بھی ہوجائے ہم جیسے لوگ مثبت ہی رہیں گے'۔پٹھان کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گیے اور یہ الزام لگایا گیا کہ آئندہ سال ریلیز ہونے والی فلم پٹھان کے گانے 'بیشرم رنگ' سے ایک طبقہ کو ناراض کیا گیا ہے۔ کے آئی ایف ایف میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرنے والے خان نے کہا کہ ' سنیما بات چیت کو زندہ رکھنے کے لیے ایک بہترین جگہ ہے جو وسیع پیمانے پر انسان سے بات کرتا ہے'۔
فیسٹیول میں اپنی تقریر میں شاہ رخ نے سوشل میڈیا پر ہونے والی منفی باتوں پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ 'ہمارے دور میں سوشل میڈیا، ایک دوسرے کی باتوں کو تشکیل دینے کا ذریعہ بنا ہے۔ اس خیال کے برعکس سوشل میڈیا کا پھیلاؤ سینما پر منفی اثر مرتب کرے گا ایسے میں میرا ماننا ہے کہ اب سنیما کا اور بھی اہم کردار ہے۔ سوشل میڈیا اکثر ایک مخصوص تنگ نظریہ کی وجہ سے چلتا ہے جو انسانی فطرت کو اس کے بنیادی نفس تک محدود کردیتا ہے اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ منفی چیزوں کی وجہ سے سوشل میڈیا کا استعمال زیادہ ہوتا ہے اور اس طرح اس کی تجارتی قدر میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح اس کے پیچھے بھاگنے سے اجتماعی طور پر ہونے والی باتوں کو تباہ کن بناسکتی ہے۔