حیدرآباد:اداکارہ ماندانا کریمی کو افسوس ہے کہ فلمساز ساجد خان، جس پر می ٹو موومنٹ کے دوران متعدد خواتین نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا، کو مقبول ریئلٹی شو بگ باس میں شامل کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ماندانا نے بھی ساجد پر جنسی ہراساں کا الزام لگایا تھا۔Mandana Karimi on Sajid Khan' S entry in Bigg Boss 16
ہندوستان ٹائمز کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران ماندانا کریمی نے کہا کہ وہ حیران نہیں ہیں کہ فلم ساز مرکزی دھارے میں واپس آگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ' سچ پوچھیں تو میں اسے واپس اسپاٹ لائٹ میں دیکھ کر حیران نہیں ہوں۔ لوگوں کے لیے زندگی ایسی بن گئی ہے لوگ اس طرح کے مسئلے کو نظرانداز کرنا چاہتے ہیں۔ اگر کسی چیز سے فائدہ مل رہا ہے یا وہ اس سے پیسے کما رہے ہیں تو انہیں اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان اور بہت سے دوسرے ممالک میں می ٹو تحریک سے کچھ حاصل نہیں ہوا ہے'۔ماندانا نے کہا کہ صرف چند خواتین سامنے آئیں اور انہوں نے می ٹو موومنٹ کے دوران اپنے تجربات کے بارے میں بات کی لیکن یہ'بس اتنا ہی تھا'۔ اس کے بعد کوئی کاروائی نہیں ہوئی، کوئی سماجی بائیکاٹ نہیں ہوا'۔
انہوں نے کہا کہ ' کیا کارروائی ہوئی؟ کون سے لوگوں نے ان لوگوں کا بائیکاٹ کیا، کچھ نہیں ہونے والا ہے۔ کیونکہ ہم ایک ایسی انڈسٹری کے بارے میں بات کر رہے ہیں، جہاں کوئی کسی کی ماں ہے، بوائے فرینڈ ہے یا گرل فرینڈ یا شوہر ہے۔ یہ ایسا ہے کہ تم میرے کام آؤ اور میں تمہارے کام آؤں گا'۔
اداکارہ کہتی ہیں کہ ساجد خان کو اسکرین پر دیکھ کر انہیں بہت تکلیف ہوئی۔ اس لیے انہوں نے ایسی انڈسٹری میں کام نہیں کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو خواتین کی عزت نہیں کرتا ہے۔' میں افسردہ محسوس کرتی ہوں ۔ سچ پوچھیں تو یہی وجہ ہے کہ میں نے پچھلے سات ماہ سے کام نہیں کیا۔ میں اب کام نہیں کر رہی ہوں۔ میں کسی آڈیشن میں نہیں گئئی۔ میں بالی ووڈ میں کام نہیں کرنا چاہتی۔ میں ایسی صنعت سے وابستہ نہیں ہونا چاہتی جہاں خواتین کی عزت نہ ہو'۔
ماندانا نے کہا کہ' وہ اب یہ سوچ رہی ہیں کہ ہندی فلم انڈسٹری کو چھوڑنے کے بعد انہیں آگے کیا کرنا ہے۔ کیونکہ ایک عورت ہونے کے ناطے، یہ آسان نہیں ہے۔ مجھے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ مجھے کس چیز سے خوشی ملتی ہے کیونکہ یہ زندگی سمجھوتہ کرنے کے لیے بہت مختصر ہے۔ایسے لوگ ہیں جو سمجھوتہ کرنے پر راضی ہوتے ہیں اور اپنا منہ بند رکھتے ہیں، یا ارد گرد ہونے والی چیزوں کے بارے میں بات نہیں کرتے، وہ یہ سوچتے ہیں کہ ایک انسان کتنی تبدیلی لا کستا ہے اور یہی اصل مسئلہ ہے۔ دیکھتے ہیں میری زندگی مجھے کہاں لے جاتی ہے'۔