ریاست اتر پردیش کے ضلع سہارنپور کے دیوبند علاقہ میں سی اے اے اور این آرسی کے خلاف جمعیة علماءہند کے تحت جاری احتجاجی مظاہرہ اور گرفتاری پروگرام کے دوران آج تنظیم کے ضلعی ذمہ داران نے پولیس انتظامیہ سے کہاکہ وہ جمعیة کی جانب سے چلائے جانے والے پر امن احتجاج کو سمجھیں اور جماعت کی تاریخ سے بھی واقفیت حاصل کریں۔
واضح رہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے جمعیة علماءہند کے عہدیداران کو سخت لہجہ میں یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ اس احتجاج کے راستہ کو ترک کردیں لیکن جمعیة علماءہند نے اپنے احتجاجی پروگرام کو جاری رکھتے ہوئے واضح طورپر کہاکہ ان کے خلاف کارروائی کی دھمکی دینے والے کوئی کارروائی کرکے دکھائیں۔
اس دوران سی اے اے اور این آرسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے 350 لوگوں نے اپنی گرفتاری دی۔
بعد نماز ظہر دیوبند کے عیدگاہ میدان میں جمعیة کارکنان نے گرفتاری دینے کے لئے دھرنا دیا۔اس موقع پر پروگرام کی صدارت کررہے جمعیة علماءضلع سہارنپور کے صدر مولانا ظہور احمد قاسمی نے کہاکہ آزادی کی جنگ میں جمعیة علماءہند کا اہم کردار ہے۔
انہوں نے کہاکہ جمعیة علماءکے پر امن احتجاج کو کچھ لوگ نشانہ بنارہے ہیں اور غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں، انتظامیہ کو شاید جمعیة علما ءہندکی تاریخ سے واقفیت نہیں ہے۔
مولاناظہور احمد قاسمی نے کہاکہ میرٹھ، لکھنو،کانپور، بجنور،بنارس اور مظفرنگر سمیت دیگر شہروں میں ہوئے پر امن احتجاج میں شامل لوگوں کو صوبہ کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے حکم پر پولیس انتظامیہ نے اپنے ظلم و بربریت کانشانہ بنایا جو نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ کھلی دہشت گردی ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ آج ملک میں اپنا حق مانگنے والوں کو فسادی کہاجارہاہے، جو ہمیں لوٹ رہے ہیں وہی ہمیں کارروائی کئے جانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، جسکو کبھی برداشت نہیں کیاجائیگا۔