ہندو تنظیموں نے اڑیسہ کے کینجھور ضلع میں جنوری 1999 میں آسٹریلیائی پادری گراہم اسٹینس اور اس کی دو بیٹیوں کو جلاکر مارنے والے دارا سنگھ Dara Singh کو یوم جمہوریہ کے موقع پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور عمر قید کی سزا کاٹ رہے مجرم کو ہندو تنظیموں نے اپنا ہیرو قرار دیا ہے۔
نوئیڈا میڈیا کلب Noida Media Club میں منعقدہ پریس کانفرنس میں آل انڈیا ہندو مہاسبھا All India Hindu Mahasabha کے قومی صدر منا کمار شرما کی قیادت میں دارا سینا، کرانتکاری منو وادی مورچہ، میرٹ انڈیا، کھٹک چار ماکر والمیکی دھرم رکش سینا، نوتن کونارک سن مندر نرمان شالا وغیرہ تنظیموں نے بتایا کہ انہوں نے صدر، وزیر اعظم، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، یوگی آدتیہ ناتھ اور اڈیشہ کے گورنر اور وزیر اعلیٰ سے درخواست کی کہ گزشتہ 22 سالوں سے اڑیسہ کی جیل میں بند اتر پردیش کے دارا سنگھ کو یوم جمہوریہ کے موقع پر رہا کیا جائے۔
دارا سینا کے سرپرست، کرانتی کاری منووادی مورچہ پارٹی Kranti Kari Manuwdi Mocha Party کے قومی صدر اور میرٹ انڈیا کے کنوینر آر کے بھردواج نے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکہ انگلستان کی نگرانی میں نکسلی عیسائی دہشت گردوں کے مشنری گینگوں کے ذریعے غیر ملکی گرانٹس کا غلط استعمال کر کے خدمت کے نام پر ہندوؤں کو عیسائی بنایا جا رہا ہے بلکہ ان کے ہاتھ میں ہتھیار تھما کر انہیں نکسلی عیسائی دہشت گرد بنا رہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ دور دراز کے بنواسی علاقوں میں عیسائی نہیں بننے پر ہندو خاندانوں کی ماں بیٹیوں کو چڑیل کہہ کر زندہ جلایا جا رہا ہے۔ جب کہ غیر ملکی عطیہ کی غیر ملکی رقم کو تبدیلی مذہب اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا۔