نوئیڈا: خیال رہے کہ پارلیمنٹ سے منظور شدہ تین زرعی قوانین کے خلاف کسان گذشتہ کئی ماہ سے احتجاج کررہے ہیں۔ شروعاتی دنوں میں کسانوں نے پنجاب اور ہریانہ میں احتجاج کیا اس دوران کسانوں نے ریل روکو تحریک بھی چلائی۔ مزید کسان زرعی قوانین کو کسان مخالف بتاتے ہوئےگذشتہ 22 دنوں سے دہلی کے باڈرز پر احتجاج کررہے ہیں۔ دوسری جانب حکومت ان زرعی قوانین کو کسانوں کے مفاد میں بتاتے ہوئے فائدے گنوانے میں مصروف ہے۔ حکومت اور بی جے پی کی کوششوں کے باوجود دہلی کے باڈرز پر کسانوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔
چلہ باڈر پر کسانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ
حکومت اور انتظامیہ اس مغالطے میں تھی کہ کسان پریشان ہوکر خود اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے، لیکن کسانوں کے احتجاج میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے'۔
حکومت اور انتظامیہ اس مغالطے میں تھی کہ کسان پریشان ہوکر خود اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے، لیکن دن بدن تحریک میں شدت آرہی ہے اور کسانوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ کسان زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کرر ہے ہیں'۔
خبروں کے مطابق تحریک کو کمزور کرنے کے لیے بھارتی کسان یونین کو منقسم کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ لیکن اس کے بعد اترپردیش کے مختلف اضلاع سے کسانوں کی آمد شروع ہوئی اور چلہ باڈر پر کسانوں کی تعداد مزید بڑھ گئی۔ اتر پردیش کے اناو، رائے بریلی، لکھنؤ کے موہن لال گنج سے تعلق رکھنے والے کسان بھی دھرنے میں شامل ہورہے ہیں۔ حالانکہ ان کسانوں کو راستے میں پولیس نے روکنے کی بھرپور کوشش کی لیکن کسان دوسرے راستوں سے دھرنے کے مقام پر پہنچ رہے ہیں۔ جبکہ بھارتیہ کسان یونین امباوتا گروپ کے کسان بھی چلہ باڈر پر جمے ہوئے ہیں۔