اردو رسالہ معارف کے بارے میں مشہور ہے کہ مذکورہ رسالہ اردو رسائل کی تاریخ میں اسم باسمی کی حیثیت کا حامل ہے۔ رسالہ گزشتہ ایک صدی سے مسلسل علمی، ادبی اور تاریخ کی مثالی خدمات انجام دے رہا ہے۔ یہ اردو کے ان رسالوں میں سے ایک ہے جس نے مذہب اور ادب دونوں کے لیے معرفت کا سامان پیدا کیا۔ ایک طرف جہاں تحقیق و ادب کے میدان میں اردو زبان کو ثروت مند کیا تو دوسری طرف اسلامی علوم و افکار خصوصا قرآن و حدیث کی بیش بہاخدمت انجام دی۔ سنہ 1919 سے شائع ہونے والا رسالہ اب آن لائن بھی دستیاب ہے، تاکہ قارئین بلا روکاوٹ کے رسالے سے مستفیذ ہوسکیں۔
بہر کیف رسالہ کی اشاعت اعظم گڑھ کے دارالمصنفین شبلی اکیڈمی کے شعبہ اشاعت سے ہورا ہے۔ معارف میں ابتدائی ہے سے اعلی مضامین پیش کیے جارہے ہیں۔ تحقیق، مذہب، تاریخ، فلسفہ سمیت مختلف موضوعات پر بہترین مقالے معارف میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ معارف کے ادبیات کے حصہ میں جوش ملیح آبادی، مولانا حالی، اکبر الہ آبادی سے لیکر اب تک کے بہترین شعراء کی تخلیقات شائع کی جاتی رہی ہے۔