مغربی بنگال کے پرولیا ضلع سے رکن پارلیمان جیوتی موے سنگھ مہتو نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’نندی گرام میں بی جے پی کے حامیوں پر حملے میں ترنمول کانگریس کے کارکنان ملوث ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا: ’’بی جے پی کے حامیوں پر جتنا ظلم ہوگا ان کی طاقت اتنی ہی بڑھے گی۔ بلند حوصلوں کے ساتھ ترنمول کانگریس کے خلاف انتخابی میدان میں اتریں گے۔ حکمران جماعت ترنمول کانگریس دور اقتدار کو دیکھ کر عام لوگ خوفزدہ ہونے لگے ہیں۔ لوگ آہستہ آہستہ حکمراں جماعت ترنمول کانگریس سے دوری بنانے لگے ہیں۔‘‘
رکن پارلیمان نے مغربی بنگال کی حکومت کو شمالی کوریا کے ساتھ موازنہ کیا، ’’شمالی کوریا اور ریاست کی موجودہ حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کے درمیان زیادہ فرق دکھائی نہیں دے رہا ہے۔‘‘
مدنی پور ضلع کے نندی گرام میں بی جے پی کے حامیوں پر حملہ میں 100حامی زخمی ہوئے تھے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’بنگال کے عوام کو ایسی حکومت نہیں چاہیے جس میں کھل کر سانس لینے کی آزادی حاصل نہ ہو۔ روزانہ ریاست کے مختلف اضلاع میں سیاسی جماعتوں کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں ہونے کی اطلاع موصول ہو رہی ہے۔"
واضح رہے کہ مغربی بنگال کے مدنی پور ضلع کے نندی گرام میں شرپسندوں نے شھبندو ادھیکاری کے جلسے میں شرکت کرنے کے لئے جانے والے بی جے پی کے حامیوں پر حملہ کر دیا۔
اس حملے میں سو کے قریب بی جے پی کے حامیوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے، زخمیوں کو ضلع ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
دریں اثناء بدھ کو نامعلوم افراد نے ترنمول کانگریس کے پارٹی دفتر میں توڑ پھوڑ کی جس کے بعد علاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے۔