جموں میں مقیم روہنگیائی پناہ گزیں خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں خوف ہے کہ کہیں بھارتی حکومت انہیں واپس میانمار نہ بھیج دے۔
نروال اور بھٹنڈی علاقے میں مقیم روہنگیائی پناہ گزینوں کے چہرے پر خوف واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔
جموں میں روہنگیائی پناہ گزینوں کا آنکھوں دیکھا حال ملک میں روہنگیائی مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی جموں کے مختلف حصوں میں مقیم ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں میں گذشتہ چند برسوں سے 5700 روہنگیا مسلمان رہ رہے ہیں۔
نورالاسلام میانمار کے رخائن سے تعلق رکھتے ہیں اور وہاں ہونے والی تشدد کی وجہ انہیں اہل خانہ سمیت بھارت آنا پڑا۔
لیکن انہیں خوف ستا رہا ہے کہ کہیں بھارتی حکومت انہیں یہاں سے واپس میانمار نہ بھیج دے۔
انہوں نے ہمیں بتایا کہ میانمار میں ظلم و تشدد ہونے کی وجہ سے انہیں کئی ممالک کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
انہوں نے جذباتی انداز میں کہا: 'ہم یہاں صرف اپنی جان بچانے آئے ہیں۔ اب اگر بھارت بھی ہمیں وہاں واپس بھیج دے تو اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہو سکتی ہے؟
روہنگیائی مسلمانوں کا ماننا ہے کہ اگر میانمار حکومت انہیں اپنا شہری تسلیم کرلے تو واپس وہ اپنے ملک لوٹ جائیں گے۔
روہنگیائی بزرگ عبدالرحمان نے ای ٹی وی بھارت سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی جان بچانے کے لیے ہی بھارت آئے ہیں اور میانمار میں امن بحال ہونے تک بھارتی حکومت ہمیں یہاں رہنے کی اجازت دے۔
جموں میں ان روہنگیا مسلمانوں کے خلاف دائیں بازو کی شدت پسند ہندو تنظیموں نے کئی بار احتجاج بھی کیا ہے۔ ان تنظیموں کا ماننا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر یہاں رہ رہے ہیں اور ان سے ملک کی سالمیت کو خطرہ ہے۔
پنتھرز پارٹی کے اسٹیٹ سکریٹری گگن پرتاب سنگھ کا کہنا ہے: 'یہ غیر قانونی طور پر یہاں میانمار سے رہنے کے لیے آئے ہیں، ان کو جموں سے جلد از جلد نکالا جائے۔'