ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے رقم جمع کرنے کے مقصد سے نکالی گئی ریلیوں کے دوران ریاست مدھیہ پردیش میں مختلف مقامات پر فرقہ وارانہ فسادات پر ایسوسی ایشن آف پروٹکشن سول رائٹس کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے جائزہ لیا۔ سپریم کورٹ کے وکیل احتشام ہاشمی، ایڈووکیٹ مکیش کشور ( رکن سی آئی پی ایم ایل) ایڈووکیٹ شعیب انامدار ( نیشنل اسسٹنٹ کوآرڈینیشن، اے پی سی آر) ایڈووکیٹ جوالنت سنگھ چوہان، کاشف محمد فراز (صحافی) وغیرہ نے مدھیہ پردیش کے مساد سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔
واضح رہے کہ ملک بھر میں رام مندر کی تعمیر کے لیے رقم جمع کرنے کی مہم چل رہی ہے لیکن رقم کی وصولی میں مدھیہ پردیش کے مالوہ خطہ کے اندور اور مندسور میں فرقہ وارانہ واقعہ پیش آیا، جس پر دونوں فرقہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔ ان فرقہ وارانہ حملوں کے لیے شہری حقوق کے تحفظ سے متعلق ایسوسی ایشن آف پروڈکشن ٹیم نے تشدد سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔
ٹیم نے بیگم باغ کالونی ( اجین) چندن کھیڑی ( اندور) اور ڈاؤرانا کا دورہ کیا۔ ٹیم نے فسادات زدہ متاثرہ علاقوں کے لوگوں سے تفصیل سے بات چیت کی۔ ٹیم کا کہنا ہے کہ ہم نے متاثرین اور پولیس کے اعلی افسران سے بھی بات کی تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ فسادات کیسے اور کن وجوہات کی بنیاد پر ہوا۔
ٹیم کا کہنا ہے کہ متاثرین نے بتایا کہ بیگم باغ علاقے میں ایک بھیڑ جمع ہوئی جہاں مخصوص طور پر اقلیتی طبقہ قیام پذیر ہیں۔ یہاں مندر کے لیے چندہ جمع کرنے والی بھیڑ نے قابل احترام نعرے بازی کرنا شروع کر دیا۔ اس سے بھیڑ اور رہائشیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ اس دوران مقامی خواتین کو نشانہ بناتے ہوئے گندی گندی گالیاں دی گئی، جس کے بعد معاملہ بڑھ گیا اور فسادیوں نے مقامی آبادی کے لوگوں کے ساتھ مارپیٹ شروع کر دی۔
دہلی سے آئی اس ٹیم نے ریاست میں ہوئے ان معاملات پر ایک کمیٹی بنا کر اس کی جانچ کا مطالبہ کیا اور ریاست کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان سے اپیل کی کہ سب کو وہ ایک نظر سے دیکھیں۔