انہوں نے کہا کہ 'انسانی فطرت میں یہ شامل ہے کہ وہ کسی بات اور فیصلے سے پورے طور پر مطمئن نہیں ہو سکتا۔ عدالت کے ایک فیصلے کے بعد کسی دوسرے حکم کی خواہش دل میں لیے ملک کے امن و امان اور فرقہ وارانہ یکجہتی کو داؤ پر لگائے جانے کو مناسب نہیں کہا جا سکتا-'
انہوں نے کہا کہ 'یہ بڑی بات ہے کہ اس فیصلے کے بعد پورے ملک میں حالات معمول پر رہے- سبھی مذہب کے لوگوں نے اس فیصلے کو دل سے قبول کر لیا- فیصلے کے بعد کہیں کوئی فساد نہیں ہوا اور گزشتہ چند برسوں میں فرقہ پرستی کا جو گراف بلند ہوا تھا اس میں کافی کمی پائی گئی-'