کرناٹک کے ضلع اڈپی و دیگرمقامات کے اسکول اور کالج اانتظامیہ کی جانب سے مسلم طالبات کو حجاب زیب تن کر کے کلاس روم میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار پر ملک کے متعدد ریاستوں میں مظاہرے کئے جارہے ہیں۔
اس سلسلے کی ایک کڑی کے پیش نظر ضلع یادگیر کے تعلقہ شاہ پور ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔جس میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے شرکت کی۔College Students take to the Streets Condemning Hijab ban
اس احتجا جی ریلی سےخطاب کرتے ہوئے مقررنین نے کہا کہ آج ملک میں لڑکیاں محفوظ نہیں ہے۔ حکومت ایک طرف بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ دیتی ہے وہیں جب ملک کی بیٹی پڑھنا چاہتی ہے تو انہیں طرح طرح سے پریشان کیا جا رہا ہے۔
شاکرہ نامی خاتون نے کہا کہ ہمارے ملک کا قانون ہمیں اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہم اپنی حفاظت کے لیے حجاب کا استعمال کریں۔ حجاب آج یا کل کی ایجاد کی ہوئی چیز نہیں ہے بلکہ ہمیشہ سے ہی عورتیں اسے زیب تن کرکے اپنی پڑھائی و دیگر خدمات انجام دیتی رہی ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اس وقت بہت ہی دکھ ہوتا ہے جب ہمیں پاکستان جانے کی بات کہی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک ہمارا تھا ہمارا ہے اور ہمارا رہے گا ہم یہاں پر با حجاب رہتے تھے اور رہیں گے اسی ملک میں ہی مریں گے
ام سلمہ نے کہا کہ اسکول کالج حجاب پہننے کا سب کو حق حاصل ہے کہ۔ وہ اپنے اپنے مذہب کی پیروی کرے اسے اپنے طریقے سے زندگی گزارنے تو صرف مسلمانوں اور مسلم خواتین پر ہی پابندی کیوں لگائی جارہی ہیں؟
مزید پڑھیں:Criticized on Hijab Ban Issue: 'حجاب پر پابندی فرقہ پرست ذہنیت کی عکاسی ہے'
اس موقع پر تحصیلدار مادوراج کے توسط سے وزیرآعلی کرناٹک کو ایک یادداشت پیش کی گئی جس میں اسکول اور کالج میں لڑکیوں کو باحجاب تعلیم حاصل کرنے کی سہولت مہیا کرنے کی اپیل کی گئی ۔ اس کے علاوہ حجاب کو لے کر نفرت پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کی بھی اپیل کی گئی۔