عالمی وبا کورونا وائرس نے جہاں زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا، وہیں اس وبا سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بھی کافی متاثر ہوا۔ حالانکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک کوئی ایسی فہرست جاری نہیں کی گئی ہے، لیکن اطلاعات کے مطابق کورونا وبا کی دوسری لہر کے دوران اب تک تقریبا سو سے زیادہ موجودہ اور ریٹائرڈ تدریسی و غیر تدریسی ملازمین کی موت ہوئی ہے۔
اے ایم یو انتظامیہ پر ملازمین کی اموات کی تعداد چھپانے کا الزام - عالمی وبا کورونا وائرس کا قہر
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کوآرڈینیشن کمیٹی کے ممبران کا کہنا ہے کہ 'اے ایم یو انتظامیہ اپنے ہی ملازمین کی اموات کی تعداد کو چھپا رہا ہے۔ کورونا وبا کی دوسری لہر کے دوران گزشتہ 45 روز میں یونیورسٹی قبرستان میں 300 افراد کی تدفین ہوئی، جن میں 100 سے زیادہ اے ایم یو کے موجودہ اور ریٹائرڈ ملازمین ہیں۔
یونیورسٹی ملازمین کی اموات آکسیجن کورونا وبا کے سبب کی کمی کی وجہ سے ہوئی ہے، باقاعدہ اس کی جانچ ہونی چاہیے، یہ لوگ جھوٹ کیوں بول رہے ہیں، جہاں تک مجھے لگتا ہے کہ یہ لوگ حکومت کے دباؤ کی وجہ سے جھوٹ بول رہے ہیں، کل سو سے زیادہ یونیورسٹی ملازمین کی اموات ہو ئی ہے اور اگر کسی کو اس بات کا ثبوت چاہیے تو وہ یونیورسٹی قبرستان کا دورہ کر سکتا ہے'۔
اے ایم یو طلبہ رہنما اور اے ایم یو کوآرڈینیشن کمیٹی کے رکن محمد عامر نے بتایا کہا کہ میں یونیورسٹی کے پی آر او سے پوچھنا چاہتا ہوں کیوں کہ وہ غیر تدریسی عملے کی اموات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ اس وقت حالات بہت خراب ہیں، کسی کو بھی کچھ ہو سکتا ہے، اگر پی آر او کے ساتھ کچھ ایسا ہو جاتا ہے تو ہم ان کو یونیورسٹی ملازمین میں شامل کریں یا نہیں، کیونکہ وہ غیر تدریسی عملے میں آتے ہیں'۔ محمد عامر نے مزید کہاکہ 'سچائی یہ ہے کہ تقریبا 80 ملازمین کی فہرست تو ہمارے پاس ہے جن کی موت ہو چکی ہے۔