نئی دہلی: پبلک سیکٹر کے بینکوں کی بہتر مالی حالت کو دیکھتے ہوئے حکومت آئندہ مالی برس کے بجٹ میں سرمایہ ڈالنے کے کم امکانات دکھائی دے رہے ہیں۔ ذرائع نے یہ امکان ظاہر کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پبلک سیکٹر کے بینکوں کے سرمائے کی مناسبیت کا تناسب ریگولیٹری ضرورت سے تجاوز کر گیا ہے۔ اس وقت یہ 14 فیصد سے 20 فیصد کے درمیان ہے۔ یہ بینک اپنے وسائل بڑھانے کے لیے مارکیٹ سے فنڈز اکٹھا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنے غیر بنیادی اثاثوں کو فروخت کرنے کا طریقہ بھی اپنا رہے ہیں۔
حکومت نے آخری بار مالی برس 2021-22 میں پبلک سیکٹر کے بینکوں میں سرمایہ لگایا تھا۔ حکومت نے سپلیمنٹری ڈیمانڈ گرانٹ کے ذریعے بینک کی دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے 20,000 کروڑ روپے مقرر کیے تھے۔ پچھلے پانچ مالی برسوں یعنی 2016-17 سے 2020-21 کے دوران، حکومت نے سرکاری شعبے کے بینکوں میں 3,10,997 کروڑ روپے کا سرمایہ لگایا ہے۔ اس میں سے 34,997 کروڑ روپے کا انتظام بجٹ کے ذریعے کیا گیا تھا، جب کہ ان بینکوں نے ری کیپیٹلائزیشن بانڈز جاری کرکے 2.76 لاکھ کروڑ روپے اکٹھے کیے گئے تھے۔
وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن یکم فروری کو مالی برس 2023-24 کا بجٹ پیش کریں گی۔ یہ نریندر مودی حکومت کے موجودہ دور کا آخری مکمل بجٹ ہوگا۔ کیونکہ آئندہ برس عام انتخابات ہونے والے ہیں اور آئندہ برس حکومت کو عبوری بجٹ پیش کرنا پڑے گا۔ بتادیں کہ تمام 12 پبلک سیکٹر بینکوں نے رواں مالی برس کی پہلی سہ ماہی میں 15,306 کروڑ روپے کا منافع کمایا تھا۔ دوسری سہ ماہی میں یہ رقم بڑھ کر 25,685 کروڑ روپے ہوگئی۔ اگر ایک برس پہلے سے موازنہ کیا جائے تو ان بینکوں کے منافع میں پہلی سہ ماہی میں نو فیصد اور دوسری سہ ماہی میں پچاس فیصد اضافہ ہوا۔