حیدرآباد: آمدنی اور اخراجات ان دونوں کے درمیان آپ کو توازن کو برقرار رکھنا چاہیے۔ اپنی آج کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے مستقبل کے اخراجات کا بھی اندازہ لگانا چاہیے۔ یہ وہ اصول ہے جو کسی بھی بجٹ کی رہنمائی کرتا ہے۔ مرکزی بجٹ یکم فروری کو پیش کیا جائے گا۔ اب وقت آگیا ہے کہ آپ اپنی آمدنی اور اخراجات پر نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ آپ کو کیا کرنا ہے۔ مرکزی بجٹ کا اثر براہ راست یا بالواسطہ ہر شہری پر پڑے گا۔ بجٹ ترقی اور فلاح و بہبود کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے۔ ہمیں گھر کا بجٹ بھی تیار کرتے وقت اس بات کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔ گھر کا بجٹ بنانے سے پہلے خاندان کے مجموعی مالی اہداف کو سوچیں اور طے کریں؟
بجٹ کی فہرست میں تمام اہداف کو نوٹ کریں۔ مختصر مدت اور طویل مدتی اہداف کو الگ الگ ذکر کریں۔ گھریلو اشیاء کی خریداری کو مختصر مدت میں شمار کریں۔ گھر اور گاڑی کی خریدی درمیانی مدت کے مقاصد میں شمار کیں۔ ریٹائرمنٹ، بچوں کی شادی طویل مدتی حکمت عملی میں شمار کریں۔ ایک بار جب آپ ان چیزوں کو نوٹ کر لیں گے تو آپ سمجھ جائیں گے کہ کیا کرنا ہے۔ بہت سے مالی مسائل کی بنیادی وجہ یہ نہ جاننا ہے کہ کمائی گئی رقم کو مختلف مقاصد کے لیے کیسے ایڈجسٹ کیا جائے۔
آپ کا گھریلو بجٹ آپ کو یہ جاننے میں مدد کرتا ہے کہ آپ اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے اپنے دستیاب مالی وسائل کو کس حد تک موثر طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ہر ماہ ایک خاص رقم بچانا کافی ہے۔ وہ اسے کافی اچھا مالی منصوبہ سمجھتے ہیں۔ یہ دراصل ایک غلطی ہے۔ اس کے علاوہ کہ آپ کتنی بچت کر رہے ہیں، آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کو اپنے مالی مقصد کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے کتنی سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ کو اس رقم کی سرمایہ کاری کے لیے احتیاط سے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔
ہم یہ نہیں معلوم کب کیا ہوجائے۔ اس لیے ہر کسی کے پاس ایک ہنگامی فنڈ ہونا چاہیے۔ اسے اپنے خاندانی بجٹ میں اعلیٰ ترجیح بنائیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے پاس ہمیشہ کم از کم 6 ماہ کے اخراجات اور قسطوں کی ادائیگی کے لیے کافی رقم موجود ہو۔ اس کا استعمال صرف غیر متوقع حالات جیسے بے روزگاری، حادثے وغیرہ میں اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کیا جانا چاہیے۔