نئی دہلی: کانگریس نے جمعہ کو کہا کہ لاکھوں ای وی ایم مشینوں کا خراب پایا جانا اور اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر ان کی مرمت نہ کرنا جمہوری عمل کے لیے اچھا نہیں ہے اور یہ حکومت اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ انتخابی عمل کو شفاف بنانے اور عوام کا اس پر اعتماد برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔ آج یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے مواصلاتی سربراہ پون کھیڑا نے کہا کہ ایک رپورٹ کے مطابق 37 فیصد وی وی پی اے ٹی مشینیں خراب پائی گئی ہیں۔
2019 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد سے تمام انتخابات میں ان کا استعمال ہوتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک ہی سیریز کے سیریل نمبر والی ہزاروں مشینیں خراب ہونے پر بھی ان کو ٹھیک کرنے کے جو معیار یعنی ایس او پی ہوتے ہیں ان پربھی عمل نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ حکومت کیا چھپا رہی ہے۔ جب وی وی پی اے ٹی میں خرابی تھی تو انہیں بروقت ٹھیک کیوں نہیں کیا گیا اور اپوزیشن جماعتوں کو اس سلسلے میں اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا؟ حکومت اور کمیشن ان تمام سوالوں کا جواب دے اور ملک کو بتائے کہ اسے کیوں چھپایا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ اگر کسی ایک ووٹر کو بھی انتخابی عمل کے بارے میں شک ہے تو شکوک کو دور کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کوئی بھی جیتے، انتخابی عمل سے عوام کا اعتماد متزلزل نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں ہی کانگریس ان خبروں پر ردعمل ظاہر کرتی ہے جس میں اکثر کہا جاتا ہے کہ بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑیاں پر ای وی ایم لے جاتے ہوئے پائی گئیں۔ انہوں نے کہا، 'ہندوستان کو جمہوریت کی ماں کہا جاتا ہے اور ہمیں یہ اعزاز ہمارے عظیم آزادی پسندوں کی انتھک کوششوں کی وجہ سے حاصل ہوا ہے۔ اگر عوام کے ذہنوں میں ذرا سا بھی شبہ ہے کہ کچھ چھپایا جا رہا ہے تو شفاف طریقے سے عوام کا اعتماد بحال کیا جانا چاہیے۔